سورۃ الممتحنہ مدنی ہے، اس میں تیرہ آیتیں اور دو رکوع ہیں
تفسیر سورۃ المتحنہ
نام: آیت (10) (یا ایھا الذین امنوا اذا جائکم المومنان ماجرات فامتحنوھن اللہ اعلم بایمانھن) سے ماخوذ ہے اور یہ نام حرف " حاء" کے کسرہ اور فتحہ دونوں کے ساتھ پڑھا جاتا ے۔ المصحنۃ (بکسر الحاء) (امتحان لینے والی) اس اعتبار سے ہے کہ اس سورت نے صلح حدیبیہ کے بعد ہجرت کر کے مدینہ آنے والی نئی مسلمان عورتوں کے ایمان کا امتحان لیا اور المتحنۃ (بفتح الحاء) (وہ عورت جس کا امتحان لیا گیا) اس عورت کے اعتبار سے ہے جس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی اور جس کے ایمان کا امتحان لینے کا اس سورت میں حکم دیا گیا تھا اس کا نام ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط تھا، جیسا کہ اس آیت کی تفسیر میں آئے گا۔
زمانہ نزول: قرطبی نے لکھا ہے کہ یہ سورت سب کے نزدیک مدنی ہے ابھی پہلی آیت کے شان نزول کے سلسلے میں حاطب بن ابی بلتعہ (رض) کے واقعہ کا ذکر آئے گا جو صلح حدیبیہ کے بعد اور فتح مکہ کے قبل کا ہے اس سے اس سورت کے زمانہ نزول کی تحدید ہوجاتی ہے کہ یہ فتح مکہ کے قبل نازل ہوئی تھی۔