(9) ہر دور کے نبی نے اپنی قوم سے کہا کہ اگر میں تمہاری رہنمائی ایسی راہ کی طرف کروں جو سعادت و نیک بختی کی راہ ہے تو کیا پھر بھی تم اپنے آباء کی اندھی تقلید میں شقاوت و بدبختی کی راہ پر ہی چلتے رہو گے؟ تو کافروں نے بیک زبان کہا کہ ہاں، ہم تمہاری دعوت کا انکار کرتے ہیں، یعنی تمہیں ایک ذرہ برابر بھی ہمارے ایمان لانے کی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔
حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں: آیت کے آخری حصہ میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ اگر کافروں کو یقین بھی ہوجاتا کہ ان کے عہدے کے نبی کی دعوت صحیح ہے، تب بھی اپنی بدنیتی اور حق اور اہل حق سے عداوت اور استکبار کی وجہ سے ایمان نہ لاتے۔
آیت (25) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب کفر و شرک پر ان کا اصرار اس حد کو پہنچ گیا، تو ہم نے عذاب بھیج کر ان کا وجود ختم کردیا، اللہ کے دین اور نبی کو جھٹلانے والوں کا ہمیشہ ایسا ہی انجام ہوتا رہا ہے۔