(6) آیت (3) میں کفار مکہ کا یہ شبہ بیان کیا گیا ہے کہ انسان اللہ کا رسول نہیں ہوسکتا اس آیت میں اسی کا جواب دیا گیا ہے کہ آدم سے لے کر اب تک جتنے انبیا گزرے ہیں سبھی انسان ہی تھے، جن تک اللہ تعالیٰ بذریعہ وحی اپنا پیغام پہنچاتا تھا جن یہود و نصاری کو تم علم و فہم میں اپنے سے زیادہ سمجھتے ہو ان سے پوچھ لو، وہ بھی اس بات کی تصدیق کردیں گے۔
بعض حضرات نے اس آیت سے تقلید شخصی کے جواز پر استدلال کیا ہے جو صحیح نہیں ہے، اس لیے کہ یہاں اھل الذکر سے مراد یہود و نصاری ہیں، اور اگر بالفرض اسے عام بھی مان لیا جائے تو مقصود قرآن و سنت کے نصوص پوچھنا ہے، نہ کہ کسی انسان کی رائے جسے قرآن وسنت سے بغیر دلیل مانگے مان لیا جاتا ہے۔ سورۃ النحل آیت (43) کی تفسیر کے ضمن میں اس موضوع پر تفصیل سے لکھا جاچکا ہے۔
آیت (8) میں مذکور بالا مضمون کی مزید تاکید کے طور پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انبیا ہمیشہ گوشت پوست والے انسان ہوا کیے ہیں، جنہیں زندہ رہنے کے لیے کھانے کی ضرورت پڑتی رہی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفرقان آیت (20) میں فرمایا ہے: (وما ارلنا من قبلک من المرسلین الا انھم لیاکلون الطعام) ہم نے آپ سے پہلے جتنے انبیا بھیجے سب کھانا کھاتے تھے۔ اور وہ انبیا دنیا میں ایک متعین مدت تک زندہ رہنے کے بعد مرجاتے رہے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسی سورت کی آیت (34) میں فرمایا ہے: (وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد) ہم نے آپ سے پہلے کسی بھی انسان کو ہمیشگی کی زندگی نہیں دی ہے۔