فهرس الكتاب

الصفحة 1733 من 6343

(15) آسمانوں اور زمین میں جتنی چیزیں ہیں، سب اللہ کے ارادہ و مشیت اور اس کے حکم کے تابع ہیں، کوئی بھی اس کے حکم سے ایک ذرہ کے برابر سرتابی نہیں کرسکتا، جو کفار اللہ کو سجدہ نہیں کرتے، وہ بھی اس کے ارادہ و مشیت کے مطابق کبھی صحت مند ہوتے ہیں تو کبھی بیمار، ان میں کوئی مالدار ہوتا ہے تو کوئی فقیر، انہیں بھی ایک محدود وقت تک زندہ رہنے کے بعد موت لاحق ہوتی ہے، اہل ایمان اللہ کے سامنے برضا و رغبت جھکتے ہیں، اور کافر اللہ کے اوامر کو قبول کرنے پر مجبور ہیں، ایک دوسری رائے یہ ہے کہ یہاں سجدہ سے مراد حقیقی سجدہ ہے، یعنی اللہ کی تعظیم کے لیے زمین پر پیشانی ٹیکنا، تو اہل ایمان انس و جن اور فرشتے فی الواقع صبح و شام یعنی ہمیشہ اللہ کو سجدہ کرتے رہتے ہیں، اور اہل کفر حالت اضطرار میں اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں، جیسا کہ اللہ نے سورۃ العنکبوت آیت (65) میں فرمایا ہے: (فاذا رکبوا فی الفلک دعوا اللہ مخلصین لہ الدین) کہ جب کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ کو پورے اخلاص کے ساتھ پکارتے ہیں۔ اسی طرح انسان اور دیگر تمام مخلوقات کے سائے بھی اللہ کو سجدہ کرتے ہیں، جب کوئی اللہ کو سجدہ کرتا ہے تو اس کا سایہ بھی اس کے ساتھ اللہ کے سامنے جھکتا ہے۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ کوئی بعید بات نہیں کہ سایہ بھی حقیقی معنوں میں اللہ کو سجدہ کرتا ہوجیسا کہ پہاڑ اللہ کی تسبیح میں مشغول ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ النحل آیت (48) میں فرمایا ہے: (اولم یرو الی ما خلق اللہ من شی یتفیا ظلالہ عن الیمین والشمائل سجدا للہ وھم داخرون) یعنی کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ اللہ نے جتنی چیزیں پیدا کی ہیں ان کے سائے دائیں اور بائیں سے اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے ڈھلتے ہیں، اور وہ اللہ کے لیے عاجزی اور انکساری اختیار کیے ہوتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت