فهرس الكتاب

الصفحة 5452 من 6343

(4) اس دن کی ہولناکیوں کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس دن آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا اور پگھلے ہوئے تانبے کے مانند بہہ پڑے گا اور پہاڑ رنگے ہوئے اون کے مانند بالکل ہلکا ہو کر چاروں طرف اڑنے لگے گا اور ہر چیز فنا کے گھاٹ اتار دی جائے گی، اس کے بعد اللہ تعالیٰ تمام جنوں اور انسانوں کو دوبارہ پیدا کرے گا اور سب ننگے پاؤں ننگے بدن میدان محشر میں اکٹھا ہوجائیں گے جب ان عظیم اجرام ارضیہ کا یہ حال ہوگا، تو اس دن ضعیف و ناتواں انسان کا کیا حال ہوگا جس نے گناہوں کے بارگراں کے ذریعہ اپنے کندھوں کو نہایت بوجھل بنا رکھا ہوگا، یقیناً اس کا دل اپنی جگہ چھوڑ دے گا، اور اپنی نجات کی فکر میں ایسا پریشان و مضطرب ہوگا کہ اپنی ذات کے سوا سب کو بھول جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ عبس آیت (37) میں فرمایا ہے: (لکل امری منھم یومئذشان یغنیہ) انمیں سے ہر ایک کو اس دن فکر دامن گیر ہوگی جو اس کے لئے کافی ہوگی، اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے یہاں یوں فرمایا ہے کہ " کوئی رشتہ دار اور دوست اپنے کسی رشتہ دار اور دوست کو نہیں پوچھے گا"

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت