(3) ذیل کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے انہی بعض دلائل توحید کا ذکر کیا ہے جن کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آسمانوں اور زمین میں، یا ان کی پیدائش میں نوع بہ نوع نشانیاں ہیں اور چونکہ ان نشانیوں سے مومنین فائدہ اٹھاتے ہیں، اسی لئے بطور خاص ان کا ذکر آیا، ورنہ اللہ کی نشانیاں تو ہر خاص و عام کے لئے ہیں۔
آیت (4) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ابن آدم کا تخلیق کے کئی مراحل سے گذر کر پیدا ہونا، دل، دماغ اور عقل جیسی نعمتوں سے بہرور ہونا اور سماعت، بینائی اور گویائی پر اقدر ہونا، ان کے بارے میں آدمی جتنا غور کرے گا، اللہ کی عظیم قدرت کا اعتراف بڑھتا چلا جائے گا۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے زمین پر بھانت بھانت کے جانور، چوپائے اور حیوانات پیدا کئے ہیں، کوئی خشکی کا جانور ہے تو کوئی دریا اور سمندر میں رہنے والا ان سب کے بارے میں غور و فکر آدمی کو اس یقین تک پہنچاتا ہے کہ اللہ موجود ہے، وہ علام الغیوب ہے، عزیز و حکیم ہے اور اس بات پر قادر ہے کہ قیامت کے دن تمام مردوں کو دوبارہ زندہ کر کے ان کے اعمال کا ان سے حساب لے۔
رات اور دن کا ایک دوسرے کے بعد پورے انتظام کے ساتھ آتے رہنا، موسم کی تبدیی کے مطابق دونوں کا چھوٹا اور بڑا ہونا اور آسمان سے بارش کا نزول جس سے مردہ زمین میں جان پڑجاتی ہے اور ہواؤں کا رد و بدل، کبھی باد صبح گاہی ہے، تو کبھی شام کے وقت چلنے والی ہوا ہے، کبھی شمالی ہے تو کبھی جنوبی ہے اور کبھی باد سموم ہے تو کبھی آندھی ہے، ان سب تصرفات پر اللہ کے سوا کس کا اختیار ہے، وہی تو ہے جو ان تمام قدرتوں کا مالک ہے، اور ان میں اہل خرد کے لئے واقعی بڑی بڑی نشانیاں ہیں جو انسانوں کو صرفاسی ذات واحد کی عبادت کی طرف بلاتی ہیں۔
آیت (6) میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ یہ وہ نشانیاں ہیں جو اس کے کمال قدرت، کمال حکمت اور اس کے کمال ارداہ و مشیات پر دلالت کرتی ہیں۔ تو اب ان نشانیوں کے بعد کفار قریش کو کس دلیل کا انتظار ہے جس یدیکھ کر اللہ پر ایمان لائیں گے۔ ایک دوسری تفسیر یہ بیان کی گئی ہے کہ (بعد اللہ) سے مراد " بعد حدیث اللہ" ہے، یعنی اگر یہ لوگ قرآن کریم جیسی عظیم الشان کتاب پر ایمان نہیں لاتے ہیں، تو ان کی ہدایت کے لئے اب کون سی کتاب آئے گی۔ جس پر ایمان لائیں گے؟! یعنی یہ مشرکین ایمان نہیں لائیں گے۔