(6) کفار مکہ نے رسول اللہ سے کبر و عباد میں آکر کہا کہ اگر تم سچے ہو تو آسمان سے فرشتوں کو کیوں نہیں اتار لاتے جو تمہاری صداقت کی گواہی دیتے، اور تبلیغ و دعوت کے کام میں تمہاری مدد کرتے، قرآن کریم نے ان کی اسی بات کو اس طرح بھی بیان کیا ہے کہ (لو لا انزل الیہ ملک فیکون معہ نذیرا) یعنی اس کے لیے کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیج دیا گیا ہے جو اس کے ساتھ مل کر تبلیغ و انذار کا کام کرتا۔ الفرقان: 7) اور فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں کہا تھا: (فلو لا القی علیہ اسورۃ من ذھب او جاء معہ الملائکۃ مقترنین) کہ اس کے لیے سونے کے کنگن کیوں نہیں اتار دیئے گئے ہیں یا اس کے ساتھ صف باندھ کر فرشتے کیوں نہیں آئے ہیں۔ (الزخرف: 53)
اللہ تعالیٰ نے آیت (8) میں ان کے اس کبر و عناد کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ فرشتے تبلیغ و دعوت کے لیے تو نہیں آتے، البتہ گناہ گار قوموں پر اللہ کا عذاب نازل کرنے کے لیے آتے ہیں اور اس وقت انہیں مہلت نہیں دی جاتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفرقان آیت (22) میں فرمایا ہے: (یوم یرون الملائکۃ لا بشری یومئذ للمجرمین و یقولون حجرا محجورا) کہ جس دن یہ لوگ فرشتوں کو دیکھ لیں گے اس دن ان گنہگاروں کو کوئی خوشی نہ ہوگی اور فرشتے ان سے کہیں گے کہ آج جنت اور اس کی نعمتیں تم پر حرام کردی گئی ہیں۔