(26) مذکورہ بالا اوصاف سے متصف متقیوں سے اس دن کہا جائے گا کہ اب تم لوگ جنت میں ہمیشہ کے لئے پورے امن و سکون کے ساتھ داخل ہوجاؤ، یہاں تمہیں نہ ماضی کا غم ہوگا اور نہ مستقبل کا خوف، بڑے چین و سکون کی زندگی ہو ی، خزن و ملال کا سایہ بھی ان کے دلوں پر نہیں پڑے گا اور جس چیز کی بھی خواہش کریں گے وہ چیز چشم زدن میں ان کے پاس ہوگی، اور ان تمام نعمتوں کے علاوہ سب سے بڑی نعمت یہ ہوگی کہ باری تعالیٰ اپنا چہرہ انور ان کے سامنے کر دے گا، جس کا وہ نظارہ کریں گے۔ امام مسلم نے صہیب رومی (رض) سے (ولدینا مزید) کی یہی تفسیر روایت کی ہے۔