فهرس الكتاب

الصفحة 2294 من 6343

(14) جب مریم علیہا السلام نفاس سے فارغ ہوگئیں اور اللہ کے انعامات و اکرامات کو دیکھ کر ایک گونہ اطمینان حاصل ہوا تو اپنے بچے عیسیٰ علی السلام کو گود میں اٹھائے اپنی قوم کے پاس آئیں، لوگوں نے ان کی گود میں بچہ دیکھ کر غم و حیرت سے ملے جلے جذبہ کا اظہار کیا، کیونکہ مریم بہت ہی بڑے دینی خاندان کی بیٹی تھیں۔ لوگوں نے ان پر نکیر کرتے ہوئے کہا، اے مریم ! تو نے بہت برا کیا ہے کہ ناجائز بچہ اٹھائے چلی آرہی ہو، مزید ڈانٹ پھٹکار کرتے ہوئے کہا، اے ہارون کی بہن ! تیرا باپ تو کوئی بدکار آدمی نہیں تھا اور نہ تیری ماں ہی زانیہ عورت تھی، آیت میں (ہارون) سے مراد موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی ہارون ہیں، اس لیے کہ مریم ان ہی کی نسل سے تھیں، یا اس لیے کہ لوگ مریم کو ہارون (علیہ السلام) کی طرح عابدہ اور صالحہ سمجھتے تھے اسی لیے ان کا نام لے کر انہیں عار دلایا۔ ایک دوسرا قول یہ ہے کہ اس نام کا ان کا ایک بھائی تھا جو نیکی اور صلاح میں مشہور تھا۔ صحیح حدیث سے اسی کی تائید ہوتی ہے۔ امام احمد، مسلم، ترمذی اور نسائی وغیرہم نے مغیرہ بن شعبہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ نے انہیں نجران کے عیسائیوں کے پاس بھیجا، انہوں نے کہا کہ تم لوگ اپنے قرآن میں مریم کے بارے میں (یاخت ہارون) پڑھتے ہو حالانکہ موسیٰ عیسیٰ سے سینکڑوں سال پہلے گزرے ہیں، واپس آکر انہوں نے رسول اللہ سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: تم نے ان سے کیوں نہیں کہا کہ لوگ اپنے بچوں کے نام انبیاء و صالحین کے نام پر رکھتے تھے، یعنی ہارون مریم کے بھائی کا نام تھا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت