فهرس الكتاب

الصفحة 3488 من 6343

(34) اگر اللہ تعالیٰ کبھی لہلہاتی کھیتیوں پر بطور آزمائش تیز و تند گرم یا سرد ہوا بھیج دیتا ہے، جو انہیں نیست و نابود کردیتی ہے، تو کافر انسان اللہ تعالیٰ کی تمام سابقہ نعمتوں کو بھول جاتا ہے اور یکدم ناشکری پر اتر آتا ہے اور کہنے لگتا ہے کہ ہم نے کبھی خوشی دیکھی ہی نہیں، ہم تو ہمیشہ اللہ کی طرف سے آزمائش میں ہی رہے۔ شوکانی لکھتے ہیں کہ اہل ایمان کا حال ان سے مختلف ہوتا ہے۔

آیت (52) میں اللہ تعالیٰ نے انہی بعث بعد الموت کے منکرین کفار قریش کو مردوں اور بہروں سے تشبیہہ دی ہے، اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ جس طرح مردے اور بہرے کسی کی پکار نہیں سنتے ہیں اسی طرح یہ لوگ بھی آپ کی دعوت حق کو نہیں قبول کریں گے، اور آپ کی نصیحتوں کا انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ (اذا ولوا مدبرین) میں کفار قریش کے شدت امتناع اور شدت اعراض کو بیان کیا گیا ہے کہ اگر کوئی رک کر پکارنے والے کی آواز سننی چاہے تو شاید وہ آواز اس کے دل پر اثر کر جائے، لیکن جو شخص اپنے کانوں کو بند کئے پیچھے مڑ کر بھاگتا ہی چلا جائے تو اس سے کہاں امید کی جاسکتی ہے کہ پکارنے والے کی آواز اس پر اثر انداز ہوگی، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت سے اعراض کرنے میں اہل قریش کی کچھ ایسی ہی کیفیت تھی۔

آیت (53) میں اللہ تعالیٰ نے اہل قریش کی مزید ایمانی ابتری بیان کرنے کے لئے انہیں اندھوں سے تشبیہ دی ہے کہ ان کے دل کی آنکھیں اندھی ہوچکی ہیں اور گمراہی میں بہت دور نکل گئے ہیں، انہیں آپ سیدھی راہ پر نہیں لا سکتے ہیں۔ آپ کی دعوت حق کو وہ لوگ قبول کریں گے جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں اور حلقہ بگوش اسلام ہوچکے ہیں، کیونکہ انہی کے دل و دماغ آپ کی آواز پر لبیک کہنے کے لئے تیار ہیں اور وہی ہماری نشانیوں میں غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت