فهرس الكتاب

الصفحة 5133 من 6343

(3) وہ آسمانوں اور زمین کے ہر موجود سے پہلے تھا، اسی نے ہر چیز کو ایجاد کیا ہے اور جب ہر چیز فنا ہوجائے گی تو صرف اسی کی ذات رہ جائے گی اور وہ ہر چیز کے اوپر ہے، کوئی چیز اس کے اوپر نہیں ہے اور اس کا وجود دلائل و براہین کے ذریعہ بالکل ظاہر ہے اور اس کی ذات و ماہیت انسانوں کی آنکھوں اور عقلوں سے پوشیدہ ہے کوئی اس کی ذات کے بھید کوئی نہیں پا سکتا ہے اور وہ ہر چیز کے بھید سے واقف ہے۔

امام احمد، مسلم، ترمذی، ابن ابی شیبہ اور بیہقی نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ بی بی فاطمہ (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک خادمہ کی ضرورت کا ذکر کیا، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں نصیحت کی کہ وہ مندرجہ ذیل دعا پڑھا کریں: " الھم رب السماوات السبع و رب العرش العظیم وربنا ورب کل شی منزل التوراۃ والانجیل والفقران فالق الحب والنوی، اعوذ بک من شرکا شی انت اخذ بنا صیتہ انت الاول فلیس قبلک شیء وانت الاخر فلیس بعدشیء و انت الظاھر، فلیس فوقک شیء، وأنت الباطن فلیس دونک شیء اقض عنا الدین، واغننا من الفقر" اس مبارک دعا میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کی بڑی عمدہ تفسیر فرما دی ہے کہ تو ہی اول ہے کوئی تجھ سے پہلے نہیں اور تو ہی آخر ہے کوئی تیرے بعد نہیں اور تو ہی ظاہر ہے کوئی تجھ سے اوپر نہیں اور تو وہی باطن ہے کوئی تجھ سے زیادہ پوشیدہ نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت