فهرس الكتاب

الصفحة 4326 من 6343

(10) کفار قریش کہا کرتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمارے پاس اپنا کوئی نبی بھیجے گا تو اس پر ایمان لے آئیں گے اور یہود و نصاریٰ سے زیادہ راہ راست پر چلنے والے بن جائیں گے، لیکن جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہوئے، تو انہوں نے حق کو پہچانتے ہوئے ان کی رسالت پر ایمان لانے سے صرف اس لئے انکار کردیا کہ زمانہ جاہلیت سے ان کو جو سیادت چلی آرہی تھی وہ خطرے میں پڑگئی تھی، اس لئے دل میں اعتراف حق کے باوجود محض جاہلی حمیت کی وجہ سے اسے قبول نہیں کیا۔

بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ یہاں یہود و نصاریٰ مراد ہیں، جیسا کہ سورۃ البینہ آیت (4) میں آیا ہے: (وما تفرق الذین اوتوا الکتاب الامن بعد ماجاء تھم البینۃ) " اہل کتاب اپنے پاس ظاہر دلیل آجانے کے بعد متفرق ہوگئے۔ "

بعض دیگر مفسرین نے لکھا ہے کہ عرب اور یہود و نصاری سبھی مراد ہیں اور یہی قول راجح ہے اس لئے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے بعد تینوں گروہوں میں سے کچھ نے ان کی دعوت کو قبول کیا اور کچھ نے حق کو جاننے اور پہچاننے کے باوجود انکار کردیا۔

اللہ تعالیٰ نے حق کا انکار کرنے والے ان عرب اور یہود و نصاریٰ کے بارے میں فرمایا کہ اگر اللہ کا یہ فیصلہ پہلے ہی نہ ہوچکا ہوتا کہ انہیں دنیا میں عذاب دے کر ہلاک نہیں کیا جائے گا، بلکہ قیامت کے دن تک کے لئے ان کی سزا مؤخر کردی گئی ہے، تو ان کے جرائم ایسے ہیں کہ انہیں فی الفور ہلاک کردیا جاتا۔

آیت کے آخر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں پائے جانے والے عربوں اور یہود و نصاریٰ کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ لوگ قرآن، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دین اسلامی کی صداقت کے بارے میں خود غایت درجہ شک و شبہ میں مبتلا ہیں اور اپنی سوسائٹی میں اسلام کے خلاف شبہات پھیلا کر دوسروں کو بھی قبول حق سے روکتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت