(12) اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے بارے میں فرمایا کہ یہ عبرت و نصیحت کا خزانہ ہے، اس میں موجود اللہ کے اوامرونواہی سے جو چاہے فائدہ اٹھائے اور اپنی عاقبت سدھارے لیکن اس سے وہی شخص فائدہ اٹھائے گا جسے اللہ توفیق دے گا، اس کی توفیق کے بغیر کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔
آیت (56) کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اللہ کی ذات ہی وہ ذات ہے جس سے بندوں کو ڈرتا چاہئے اور جسے راضی کرنے کے لئے عمل صالح کرنا چاہئے اور وہی ارحم الراحمین مومنوں کے گناہوں کو معاف کرتا ہے اور توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔
امام احمد، ترمذی، نسائی، دارمی اور ابن ماجہ وغیرہ نے انس (رض) سے روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (ھو اھل التقوی واھل المغفرۃ) کی تلاوت کی اور فرمایا:" لوگو ! تمہارا رب کہتا ہے کہ میں ہی وہ ہوں جس سے ڈرنا چاہئے، پس میرے ساتھ کسی کو معبود نہ بناؤ، تو جو شخص مجھ سے ڈرے گا اور میرے ساتھ کسی کو معبود نہیں بنائے گا، میں اسے معاف کردوں گا۔" وباللہ التوفیق