(13) مشرکین قریش قیامت اور بعث بعد الموت کا انکار کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہماری اس دنیاوی زندگی کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں ہے اور نہ مرنے کے بعد دوبارہ جینا ہے اور دلیل یہ پیش کرتے تھے کہ ان کے جو باپ دادے گذر گئے، ان میں سے کوئی بھی لوٹ کر نہیں آیا، اس لئے اے محمد ! اور اے مسلمانو ! اگر بعث بعد الموت کا عقیدہ صحیح ہے، تو ہمارے ان آباء و اجداد کو زندہ کر کے دکھا دو، جو مر چکے ہیں۔
مشرکین کی یہ دلیل باطل اور ان کا یہ شبہ فاسد تھا، اس لئے کہ لوگوں کا دوبارہ زندہ کیا جانا قیامت کے دن ہوگا، اس دنیا میں کسی کو اس حقیقت کا مشاہدہ نہیں کرایا جائے گا۔ جب دنیا پورے طور پر ختم ہوجائے گی، تو اللہ تعالیٰ تمام جنوں اور انسانوں کو دوبارہ زندہ کرے گا اور ظالم کافروں کو جہنم کی آگ کا ایندھن بنائے گا۔
آیت (37) میں اللہ تعالیٰ نے انہیں دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ بہتر ہیں یا تبع حمیری کے لوگ جن کی فوجیں سمرقند تک پہنچ گئیت ھیں اور جہاں جہاں سے گذریں وہاں کے لوگوں کو اپنا تابع فرمان بنا لیا تھا، لیکن اللہ نے ان کے کفر و عناد کی وجہ سے انہیں ہلاک کردیا، ان کے علاقے تہ و بالاہ گئے اور وہ لوگ ٹولیوں میں بٹ کر دنیا میں بکھر گئے۔