(2) " القارعۃ" ب ھی قیامت کا نام ے، اس لئے کہ وہ اپنی ہولناکیوں کے ذریعہ لوگوں کو جھنجھوڑ دے گی اور ان کے دلوں پر کپکپی طاری کر دے گی بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اس سے مراد قرآن کریم ہے، اس لئے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسکی آیتیں پڑھ کر لوگوں کو ڈراتے تھے اور انہیں خواب غفلت سے جھنجوڑتے تھے، لیکن پہلا معنی ہی راجح ہے۔
کفار قریش کی طرح قوم ثمود اور قوم عاد نے بھی روز قیامت کو جھٹلایا، تو قوم ثمود کے لوگ ایک شدید ترین چیخ کے ذریعہ ہلاک کردیئے گئے یہ قوم شام و حجاز کے درمیان " حجز" نام کی جگہ پر آبادتھی، جسے آج کل مدائن صالح کے نام سے جانا جاتا ہے اور جو سعودی عرب کے شہر " العلا" سے صرف چند میل کے فاصلہ پر ہے۔
اور قوم عاد ایک شدیدترین ٹھنڈی اور تیز وتند آندھی کے ذریعہ ہلاک کردی گئی، یہ لوگ " احقاف" میں آبادتھے جو عمان اور حضرموت (یمن) کے درمیان ریگستانی علاقہ ہے۔