(32) اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کرلی اور انہیں گناہ میں پڑنے سے بچا لیا، اس آیت کریمہ سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اللہ کی حفاظت اور اس کے لطف و کرم کے بغیر کوئی شخص گناہ سے نہیں بچ سکتا ہے۔ عزیز مصر نے یوسف کی بے گناہی کے تمام شواہد و دلائل کے باوجود مشیر کاروں اور اپنی بیوی سے مشورہ کرنے کے بعد مصلحت اسی میں سمجھا کہ انہیں ایک مدت کے لیے جیل میں ڈال دے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور یوسف کو جیل میں بند کردیا گیا۔