فهرس الكتاب

الصفحة 2645 من 6343

(18) شوکانی لکھتے ہیں کہ حرمات حرمۃ کی جمع ہے، اور اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا ہر وہ حکم ہے جس کو بجا لانا ضروری ہے، چاہے وہ حج سے متعلق ہو یا کسی دوسری عبادت سے، مقصد یہ ہے کہ جو شخص گناہوں سے اجتناب کرے گا اور اپنے دل میں احساس رکھے گا کہ ان کا ارتکاب اللہ کے احکام کی بڑی خلاف ورزی ہے تو اللہ اسے اس کا اجر عظیم عطا فرمائے گا۔

اس کے بعد اللہ نے فرمایا کہ مسلمانو ! تمہارے لیے جانوروں کا گوشت کھانا حلال بنا دیا گیا ہے سوائے ان جانوروں کے جنہیں سورۃ المائدہ آیت (3) (حرمت علیکم المیتۃ) کے ذریعہ مستثنی قرار دیے دیا گیا ہے۔ ترجمہ ملاحظہ فرمایئے:

تم پر حرام کردیا گیا مردہ جانور اور خون اور سور کا گوشت اور جس پر غیر اللہ کا نام لیا جائے اور جس کا گلا گھٹ گیا ہو اور جو چوٹ کھانے سے مرگیا ہو، اور جو اوپر سے گر کر مرگیا ہو، اور جو کسی جانور کے سینگ مارنے سے مرگیا ہو اور جسے کسی درندہ نے لکھا لیاہو (ان میں سے) سوائے اس کے جسے تم نے (مرنے سے پہلے ذبح کرلیا ہو) اور وہ جانور بھی تم پر حرام کردیا گیا جسے کسی بت کے آستانے پر ذبح کیا گیا ہو، اس لیے تم لوگ اللہ کے حدود کا خیال رکھو، جنہیں اس نے حلال کیا ہے انہیں حرام نہ سمجھو اور جنہیں حرام کیا ہے انہیں حلال نہ بناؤ۔ اور بتوں کی عبادت سے بچو اور ہر جھوٹی اور باطل بات سے پرہیز کرو اور سب سے بڑا جھوٹ اللہ کے ساتھ غیروں کو شریک بنانا ہے۔

آیت (31) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اپنی اطاعت و بندگی کو صرف اللہ کے لیے خاص کردو، شرک و باطل سے منہ موڑ کر راہ توحید پر گامزن ہوجاؤ اور کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ اس کے بعد اللہ نے مشرک کی ایک مثال بیان کی جس کے ذریعہ اس کی ضلالت و گمراہی، ہلاکت و بربادی اور راہ حق سے انتہائی دوری کی عکاسی کی گئی ہے، فرمایا کہ جو شخص اللہ کے ساتھ کسی غیر کو شریک بناتا ہے، اس کی مثال اس آدمی کی ہے جو آسمان سے گرے اور چڑیاں تیزی کے ساتھ اسے جھپٹ کر اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کردیں یا یہ کہ گرتا جائے اور ہوا اسے بہت ہی دور دراز جگہ پھینک دے جہاں وہ ہلاک ہوجائے اور اس کا نام و نشان بھی باقی نہ رہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت