فهرس الكتاب

الصفحة 1730 من 6343

(13) اللہ تعالیٰ نے اپنے کمال قدرت و عظمت اور جلال و جبروت کو ظاہر کرنے کے لیے بجلی، بادل کی گرج اور صاعقہ یعنی آسمان سے اترنے والی آگ کی تفصیلات کو بیان کیا ہے۔ فرمایا: وہ اللہ کی ذات ہے جو آسمان میں بجلی کی چمک پیدا کرتا ہے تو بعض دفعہ آدمی کو صاعقہ (یعنی آگ والی بجلی) کا خوف ہوتا ہے اور کبھی اسے امید ہوتی ہے کہ بارش ہوگی، وہی بارش سے بھرے بادل کو پیدا کرتا ہے، نیز فرمایا کہ بجلی کی کڑک اس کی تسبیح بیان کرتی ہے اور یہ اس کی قدرت سے کوئی بعید بات نہیں ہے، بعض کے نزدیک اس کا مفہوم یہ ہے کہ جن کے کان میں بجلی کی کڑک کی آواز جاتی ہے وہ سبحان اللہ والحمدللہ کہتے ہیں اور فرشتے اللہ کے خوف سے تسبیح پڑھتے رہتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ صاعقہ بھیج کر جسے چاہتا ہے ہلاک کردیتا ہے، اس کے بعد فرمایا کہ کفار (جن کی ضلالت و حقارت کو اوپر بیان کیا جاچکا) اللہ کے بارے میں رسول اللہ سے جھگڑتے ہیں، بعث بعد الموت کا انکار کرتے ہیں، کبر و عناد کی وجہ سے عذاب آجانے کی جلدی مچاتے ہیں، قرآن کریم اور رسول کا مذاق اڑاتے ہیں اور اپنی من مانی نشانیوں کا مطالبہ کرتے ہیں اور اس بات سے قطعا غافل ہوتے ہیں کہ اللہ کی تدبیر اور اس کی گرفت بہت ہی شدید ہوتی ہے، جب اس کی گرفت میں آجائیں گے تو کوئی طاقت انہیں نجات نہیں دلا سکے گی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت