(40) چونکہ کفار و مشرکین کی سرکشی ابلیس لعین کی پیروی کا نتیجہ ہوتی ہے، اسی لیے اب شیطان کی سرکشی بیان کی جارہی ہے اور بتایا جارہا ہے کہ اللہ کی نافرمانی اور حق کا انکار شیطان اور اس کے پیروکاروں کا شیوہ رہا ہے، اور ان سب کا ٹھکانا جہنم ہوگا، ابلیس اور اس کی سرکشی کا یہ واقعہ البقرہ، الاعراف، الحجر، بنی اسرائیل، الکہف، طہ اور ص، سات سورتوں میں بیان کیا گیا ہے۔ یہاں یہ واقعہ پانچ آیتوں میں ذکر کیا گیا ہے، جن کا خلاصہ یہ ہے کہ اے ہمارے نبی ! آپ اس وقت کو یاد کیجیے جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ تم لوگ آدم کی تکریم و احترام میں اس کا سجدہ کرو، تو ابلیس کے علاوہ سب نے سجدہ کیا اس نے کفر و تمرد کی راہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ تو نے جو اسے مجھ پر فوقیت دی ہے اور مجھے اس کے سجدہ کرنے کا حکم دیا ہے، تو ایسا کیوں کیا ہے؟ اگر تو نے مجھے قیامت کے دن تک مہلت دی تو سوائے چند مخلص مسلمانوں کے میں سب کو گمراہ کر کے ہلاک کردوں گا، یا میں جدھر چاہوں گا انہیں بہکا کرلے جاؤں گا، تو اللہ تعالیٰ نے اس سے کہا کہ تم جو کرنا چاہتے ہو کرو، جو لوگ تمہاری پیروی کریں گے ان کا اور تمہارا ٹھکانا جہنم ہوگا، جو تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلہ ہوگا تو اب ان میں سے جسے آواز دے کر اپنی یروی پر ابھار سکتے ہو ابھارو اور انہیں دھوکہ دو، (بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اس سے مراد لہو و لعب اور غنا اور موسیقی ہے) اور انہیں اپنا پیرو کار بنانے کے لیے تمام حربے اور تمام ذرائع استعمال کرو، مکر و فریب کی جتنی صورتیں ہوسکتی ہیں سب کو اختیار کرو، اور ان کے مال و دولت اور اولاد میں شریک بن جاؤ، بایں طور کہ وہ حرام ذرائع سے دولت حاصل کریں، غصب کریں، چوری کریں، سود کھائیں اور حرام کاموں پر خرچ کریں، جانوروں کو بتوں کے نام پر چھوڑیں اور ناجائز طریقوں سے اولاد حاصل کریں۔ عبداللات اور عبدالعزی وغیرہ ان کے نام رکھیں، صلاح و تقوی کے مطابق ان کی تربیت نہ کریں اور انہیں ملحد، زندیق اور کافر بنائیں اور ان سے وعدہ کرو کہ وہ دوبارہ زندہ نہیں کیے جائیں گے یا یہ کہ ان کا انجام ہمیشہ اچھا ہوگا اور ہر دم غلبہ انہی کو ملے گا۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ شیطان کا وعدہ ہمیشہ فریب پر مبنی ہوتا ہے، پھر شیطان سے کہا کہ میرے جو مخلص بندے ہوں گے ان پر تمہاری ایک نہیں چلے گی، تم انہیں گمراہ نہیں کرسکو گے، تمہارا رب ان کا حامی ہوگا، وہ اپنے رب پر بھروسہ کریں گے اور تمام امور میں اسی کی جناب میں پناہ لیں گے اور وہ ان کے لیے کافی ہوگا۔