(7) انہوں نے اپنے آپ پر ظلم اس طرح کیا تھا کہ انہیں آخرت پر یقین نہیں تھا، وہ سمجھتے تھے کہ حساب اور جزا و سزا کا کوئی دن آنے والا نہیں ہے، اسی لئے انہوں نے آخرت میں نجات پانے کے لئے کوئی کار خیر نہیں کیا ہماری آیتوں کی تکذیبکی، اور ہمارے انبیاء جو نشانیاں لے کر ان یک پاس آئے ان کا انکار کیا، لیکن ہم ان کے چھوٹے بڑے تمام گناہوں کو ریکارڈ کرتے رہے اس لئے مجرمین آج یہ نہسمجھیں کہ ہم ان پر ظلم کر رہے ہیں اور انہیں ناکردہ گناہوں کی سزا دے رہے ہیں ہمت و ایک ایک ذرہ کو ضبط تحریر میں لاتے رہے ہیں۔ سورۃ الکہف آیت (49) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: (ووضعالکتاب فتری المجرمین مشفقین ممافیہ ویقولن یویلتنا مالھذا الکتاب لایغادر صغیرۃ لاکبیرۃ الا احصاھا ووجدوا ماعملوا حاضر اولا یظلم ربک احدا) " اور نامہ اعمال سامنے رکھ دیئے جائیں گے، پس دیکھیں گے کہ گناہگار اس کی تحریر سے خوفزدہ ہو رہے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے، ہائے ہماری خرابی، کیسی کتاب ہے جس نے کوئی چھوٹا بڑا بغیر گھیرے کے باقی ہی نہیں چھوڑا اور جو کچھ انہوں نے کیا تھا سب موجود پائیں گے اور آپ کا رب کسی پر ظلم و ستم نہیں کرے گا۔ "
اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان مجرمین سے ان کا ذہنی کرب والم بڑھانے کے لئے کہے گا کہ اب جہنم کے عذاب کا مزا چکھتے رہو، اب تو ہم تمہارے عذاب میں اضافہ ہی کرتے رہیں گے، اب تمہارے لئے چین و آرام کہاں ہے جب بھی تمہارے چمڑے جل جائیں گے ہم انہیں بدل دیں گے اور جب بھی آگ دھیمی ہوگی ہم اس کیتیزی کو بڑھا دیں گے۔ (اجارنا اللہ من النار)