(16) مشرکین مکہ بطور استہزاء و تکذیب، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کرتے تھے کہ جس عذاب سے تم ہمیں ڈراتے ہو وہ کب آئے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے کہا، آپ ان سے کہ ہدیجیے کہ میں نہیں جانتا، جس عذاب کا تم سے اللہ کی طرف سے وعدہ کیا جاتا ہے اس کا وقت قریب ہے، یا میرے رب نے مستقبل بعید میں اس کا کوئی وقت مقرر کر رکھا ہے، غیب کا علم تو صرف اسی کے پاس ہے، وہ اپنے غیب کی خبر کسی کو نہیں دیتا، سوائے اپنے اس رسول کے جسے وہ اپنی پیغام رسانی کے لئے پسند کرلیتا ہے چاہے وہ رسول فرشتوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے ایسے رسول کو وہ بعض ایسی غیبی خبریں بتاتا ہے جن کا تعلق اس کی پیغام رسانی سے ہوتا ہے، جیسے وہ معجزات جو نبی کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں احکام شرعیہ، اچھے اور برے اعمال کا بدلہ، اور بعض احوال آخرت جن غیبی امور کا تعلق اس کی رسالت سے نہیں ہوتا، جیسے قیامت کی آمد کا وقت، ان کی خبر اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو بھین ہیں دیتا۔
واحدی کا قول ہے: یہ آیت دلیل ہے کہ جو کوئی اس بات کا دعویٰ کرے کہ وہ علم نجوم کے ذریعہ غیب کی خبریں جان لیتا ہے، وہ قرآن کا منکر ہوجاتا ہے۔ قرطبی نے لکھا ہے کہ جو لوگ علم نجوم کے ذریعہ غیب کی خبروں کا دعویٰ کرتے ہیں اور جو لوگ کنکری مارتے ہیں، ہاتھ کی لکیریں پڑھتے ہیں اور مٹی پھینک کر غیبی امور کی خبریں بتاتے ہیں، ایسے لوگ اللہ کے برگزیدہ رسول نہیں ہیں، بلکہ وہ کافر باللہ ہیں اور اللہ پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں۔
(فانہ یسلک من بین یدیہ ومن خلفہ رصداً) آیت (27) کے اس حصہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ جب وہ اپنے رسول پر وحی نازل کرتا ہے تو اس وحی کے آگے اور پیچھے (یعنی ہر چہار جانب سے) نگہبان فرشتوں کی ایک جماعت کو لگا دیتا ہے جوشیاطین سے اس کی حفاظت کرتے ہیں، یہاں تک کہ وحی کا وہ حصہ رسول تک بلا کم و کاست پہنچ جاتا ہے ابن زید نے " رصداً" کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ نگہبان فرشتے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جنوں اور شیطانوں کی مداخلت سے ہر چہار جانب سے بچاتے ہیں۔