فهرس الكتاب

الصفحة 2203 من 6343

(24) دنیا کی بے ثباتی، اور قیامت میں اعمال صالحہ کا اجر و ثواب بیان کرنے کے بعد آخرت کے کچھ احوال بیان کرنا مناسب رہا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ اس دن کو یاد کیجئے جب ہم پہاڑوں کو ان کی جگہ سے اکھاڑ کر فضا میں چلائیں گے یا انہیں گرد و غبار بنا کر فضا میں اڑائیں گے، سورۃ النمل آیت (88) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: (وتری الجبال تحسبھا جامدۃ وھی تمر مر السحاب) اور آپ پہاڑوں کو اپنی جگہ جمے ہوئے خیال کریں گے، لیکن وہ بھی بادل کی طرح اڑتے پھریں گے۔ اور سورۃ الواقعہ آیات (5، 6) میں فرمایا ہے: (وبست الجبال بسا۔ فکانت ھباء منبثا) اور پہاڑ بالکل ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے پھر وہ مانند پراگندہ غبار کے ہوجائیں گے اور زمین چٹیل میدان ہوجائے گی، اس پر نہ کوئی عمارت ہوگی، نہ پہاڑ، نہ درخت اور نہ کوئی اور چیز اور اللہ تعالیٰ تمام جن و انسان کو میدان محشر میں جمع کرے گا، کوئی ایک فرد بھی نہیں چھوٹ سکے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الواقعہ آیات (49، 50) میں فرمایا ہے: (قل ان الاولین والاخرین۔ لمجموعون الی میقات یوم معلوم) آپ کہہ دیجیے کہ سب اگلے پچھلے ضرور جمع کیے جائیں گے ایک مقرر دن کے وقت۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت