فهرس الكتاب

الصفحة 2866 من 6343

30۔ منافقین نبی کریم کو اپنے صدق ایمان کا یقین دلانے کے لیے اور اپنے نفاق پر ایک نہایت دبیز پردہ ڈالنے کے لیے بڑی بھاری قسمیں کھا کر کہتے کہ ہمیں تو آپ کے اشارے کا انتظار ہے، آپ جب اجازت دیں گے تو جہاد کے لیے ضرور نکلیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم سے فرمایا، آپ انہیں کہہ دیجیے کہ قسمیں نہ کھاؤ، بلکہ تم سے تو غیر مشکوک اطاعت و فرمانبرداری مطلوب ہے، جیسے مخلص مسلمانوں کا حال ہے۔

آیت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ تو تمہارے سارے ظاہر و باطن اعمال کی خبر رکھتا ہے، تمہاری جھوٹی قسمیں، نفاق اور مسلمانوں کو دھوکہ دینا سب کچھ اسے معلوم ہے، اس لیے اس سے بچ کر کہاں جاؤ گے۔

آیت (54) میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا، آپ منافقین سے کہہ دیجیے کہ اللہ اور رسول کے تمام اوامر و نواہی کو بجا لاؤ اور اگر انکار کرو گے تو رسول کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ وہ اللہ کا پیغام پہنچا دیں، اور تمہاری ذمہ داری یہ ہے کہ تم ان کی فرمانبرداری کرو، اور جو کوئی بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں کوتاہی کرے گا، وہ اللہ کی جانب سے اس کی سزا بھگتے گا۔

اس کے بعد اللہ نے فرمایا: اگر تم لوگ رسول کی اطاعت کرو گے تو بالیقین راہ راست پر آجاؤ گے، بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اس عظیم الشان جملہ کی صداقت پر اگر کوئی شخص قسم کھائے گا تو وہ صادق ہوگا، اس لیے ہر بھلائی نبی کریم کی اتباع میں مضمر ہے، اور آپ کی پیروی کرنے والا کبھی بھی گمراہ نہیں ہوتا۔

آخر میں اللہ نے فرمایا کہ رسول اللہ کا کام تو صرف پیغام پہنچا دینا ہے، دلوں کو حق کی طرف پھیرنا ان کا کام نہیں، اس لیے اگر تبلیغ دعوت کے بعد کوئی گمراہ ہوتا ہے تو رسول اللہ پر اس کی ذمہ داری نہیں ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت