(12) انہی منافقین کا حال بیان کیا گیا ہے کہ اگر شہر مدینہ کے چاروں طرف سے دشمن حملہ کر دے اور لوٹ مار شروع کر دے، اور ان منافقین سے وہ دشمنان کہیں کہ تم لوگ اسلام کا انکار کر کے دوبارہ کفر و شرک کو قبول کرلو تو وہ لوگ ذرا بھی توقف سے کام نہیں لیے گے اور فوراً اپنے کفر کا اعلان کردیں گے۔
آیت (51) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انہوں نے تو اللہ سے عہد و پیمان کر رکھا تھا کہ وہ دشمن کو اپنی پیٹھ نہیں دکھلائیں گے، ان سے مراد بنو سلمہ کے لوگ ہیں جو جنگ بدر میں شریک نہیں ہوئے تھے اور مسلمانوں کو وہاں جو فتح و نصرت حاصل ہوئی تھی اسے سن کر کہتے تھے کہ اگر آئندہ کوئی جنگ ہوگی تو ہم ضرور شریک ہوں گے لیکن غزوہ احزاب میں ان کا بھرم کھل گیا کہ ان کی باتوں کا صداقت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔