(2) ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ منافقین ہیں جو لوگوں کے سامنے تو نماز پڑھتے ہیں اور تنہائی میں نہیں پڑھتے اور مسروق وغیرہ کا خیال ہے کہ وہ لوگ نماز تو پڑھتے ہیں جیسا کہ للمصلین کے لفظ سے معلم ہوتا ہے لیکن وہ نمازوں کو ان کے معین اوقات میں نہیں پڑھتے، اور عطاء بن دینار کا قول ہے کہ وہ لوگ نمازوں کو اول اوقات میں نہیں پڑھتے بلکہ ہمیشہ یا اکثر و بیشتر آخری وقت میں پڑھتے ہیں یا نماز پڑھتے وقت اس کے ارکان و شروط کا خیال نہیں رکھتے یا اس میں خشوع و خضوع کا خیال نہیں رکھتے (عن صلاتھم ساھون) کے الفاظ ان تمام ہی صورتوں کو شامل ہیں تو جس شخص میں ان میں سے ایک صفت پائی جائے گی اس کے اندر اسی حساب سے نماز سے غفلت پائی جائے گی اور جس کے اندر مذکورہ بالا تمام صفتیں پائی جائیں گی وہ مکمل عمل نفاق میں مبتلا ہوگا جیسا کہ صحیحین کی روایت ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:" وہ منافق کی نماز ہے، وہ منافق کی نماز ہے، وہ منافق کی نماز ہے، بیٹھا آفتاب کو دیکھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ شیطان کی دو سینگوں کے درمیان پہنچ جاتا ہے تو چار بار ٹکر مار لیتا ہے، اللہ کو اس میں کم ہی یاد کرتا ہے"
آیت (6) میں اللہ تعالیٰ نے ان منافقین کی حقیقت کھول دی کہ ان کی نماز لوگوں کے دکھاوے کے لئے ہوتی ہے، چونکہ وہ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، اس لئے وہ اپنی اس نماز سے نہ ثواب کی امید رکھتے ہیں اور نہ عذاب و عقاب کا خوف۔
اس بات کو اللہ تعالیٰ نے سورۃ النساء آیت (142) میں یوں بیان فرمایا ہے: (ان المنافقین یخارعون اللہ وھو خادعھم واذا قاموا الی الصلاۃ قاموا کسالی یراعون الناس ولا یذکرون اللہ الا قلیلاً)