(14) شرک سے ممانعت کے بعد یہاں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم کو مخاطب کر کے صراحت کے ساتھ توحید کا حکم دیا اور اس کے بعد ہی والدین کے ساتھ اچھا معاملہ کرنے کا حکم دے کر انسان کے دل و دماغ میں یہ بات بٹھانی چاہی کہ توحید باری تعالیٰ اور اس کے حقوق کی ادائیگی کے بعد، دنیا میں والدین کے حقوق سے بڑھ کو کوئی حق نہیں اور اس کی وجہ غالبا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کا خالق و موجود ہے، اس لیے اس کی عبادت ضروری ہوئی اور رحم مادر میں باپ کا نطفہ قرار پانے کے بعد ماں اس کا بوجھ نو ماہ تک ہزار تکلیفیں برداشت کر کے ڈھوتی رہتی ہے اور جب اللہ کی قدرت سے ماں کے پیٹ سے بچہ پیدا ہوتا ہے تو وہ بالکل عاجز و کمزور ہوتا ہے اس میں حرکت کرنے کی بھی صلاحیت نہیں ہوتی، اس وقت سے ماں اور باپ اللہ کے بعد اس کا سہارا بنتے ہیں اس کی حفاظت کی خاطر دن کا چین اور رات کا سکون کھو دیتے ہیں اور ہر جتن کر کے اس کی دیکھ بھال کرتے ہیں، اسے اپنی نگاہ شفقت کے زیر سایہ پالتے ہیں، تو گویا اس کے وجود و بقا کے لیے اللہ کی قدرت و ربوبیت کے بعد انہی دونوں کی شفقت و محبت کام کرتی ہے، اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو والدین کے ساتھ نیک برتاؤ کا جو طریقہ سکھلایا ہے اس سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ انسان کو اپنے والدین کی تعظیم و تکریم اور خدمت کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھنی چاہیے، جب دونوں یا ان میں سے ایک بوڑھے ہوجائیں تو ان پر نگاہ شفقت و محبت ڈالے، ان کی خدمت کر کے قلبی راحت محسوس کرے اور ان کی خدمت کرتے ہوئے اگر کوئی تکلیف پہنچے تو اف تک نہ کرے اور ان کے ساتھ غایت محبت و اکرام کا معاملہ کرے، ان کے سامنے اپنے آپ کو جھکا کر رکھے، سخت لہجہ میں بات نہ کرے، آواز اونچی نہ کرے ان کی خدمت کو دنیا و آخرت کی سعادت و نیک بختی کا سبب سمجھے، اس لیے کہ آج وہ دونوں اس شخص کی مدد کے محتاج ہوگئے ہیں جو پیدائش کے بعد سے ان کی مدد کا محتاج ترین فرد تھا، یہاں تک کہ ان کے سایہ عاطفت میں پل بڑھ کر جوان ہوگیا۔
قفال نے (واخفض لھما جناح الذل) کے تحت لکھتا ہے کہ جس طرح چڑیا غایت حفاظت کے پیش نظر اپنے چوزوں کو اپنے پر سے ڈھانک لیتی ہے اور جب پرواز سے فارغ ہو کر زمین پر اترنا چاہتی ہے تو اپنے پر سمیٹ لیتی ہے اسی طرح لڑکا جب جوان ہوجائے اور والدین بوڑھے ہوجائیں تو ہر دم ان کی حفاظت کرتا رہے اور ان کے سامنے نہایت عاجزی اور انکساری کے ساتھ رہے۔ آیت کے اس حصہ میں تواضع اور انکساری کی طرف ایک بلیغ اشارہ ہے۔ سعید بن جبیر نے اس کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ اے انسان ! تو اپنے والدین کے لیے اس طرح تواضع اور انکساری کا اظہار کر جس طرح غلام اپنے سخت مزاج اور سخت گیر آقا کے سامنے کرتا ہے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے گویا یہ کہنا چاہا ہے کہ والدین کے لیے اپنی عارضی شفقت و محبت پر اکتفا نہ کرو، بلکہ جب تک زندہ رہو روزانہ کم از کم پانچوں نمازوں میں ان کے حق میں دعا کرو کہ اللہ ان پر دائمی رحمت کرے، ان کی مغفرت فرما وے اور انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے جس طرح انہوں نے غایت شفقت و محبت کے ساتھ تمہاری پرورش کی تھی جب تم چھوٹے تھے اور حرکت نہیں کرسکتے تھے۔