55۔ مشرکینِ مکہ کہتے تھے کہ جس طرح شیطاین، کاہنوں کو آسمان کی جھوٹی خبریں سناتے ہیں، اسی طرح وہ شیاطین ایک من گھڑت کلام محمد کی زبان پر جاری کردیتے ہیں، جسے محمد قرآن کا نام دیتا ہے، اسی زعم باطل کی یہاں تردید کی گئی ہے
آیات 192، 193، 194 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ قرآن رب العالمین کا کلام ہے، اسے جبریل امین نے اللہ کے حکم سے نہایت فصیح و بلیغ زبان میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل پر اتارا ہے، اور یہاں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اسے شیاطین نے نہیں اتارا ہے، اس لیے کہ اولا تو یہ قرآن ان کی غرض و غایت نہیں ہے۔ قرآن اللہ کا نور اور انسان کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہے، اور شیاطین کا کام تو اللہ کے بندوں کو گمراہ کرنا ہے، ثانیاً یہ کہ شیطان اس کے اہل نہیں بنائے گئے ہیں کہ قرآن کا بوجھ برداشت کرسکیں، جیسا کہ اللہ نے فرمایا کہ اگر ہم اسے پہاڑ پر اتار دیتے تو وہ اللہ کے ڈر سے چکنا چور ہوجاتا، اور ثالثاً یہ کہ شیاطین کی رسائی اس قرآن تک نہیں ہوسکتی، اس لیے کہ جب اللہ تعالیٰ اسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل پر نازل کرتا ہے، اس وقت فرشتوں کا شدید پہرہ ہوتا ہے جو آگ کے انگاروں کے ذریعہ ہراس شیطان کو ماربھگاتے ہیں جو سننے کی کوشش کرتا ہے، تاکہ قرآن پوری حفاظت کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک ہپنچ جائے، اللہ تعالیٰ نے سورۃ الجن آیت 8 میں فرمایا ہے وانا لمسنا السماء فوجدناہا ملئت حرسا شدیدا و شہبا، اور ہم نے آسمان کو ٹٹول کر دیکھا تو اسے سخت چوکیداروں اور جلا دینے والے انگاروں سے بھرا پایا،