فهرس الكتاب

الصفحة 4836 من 6343

(1) پہلی آیت سے آیت (18) تک اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی تصدیق و تائید فرمائی ہے اور اس کی ابتدا ان ستاروں کی قسم کھا کر کی ہے جو رات کے آخری پہر میں گرتے نظر آتے ہیں بعض لوگوں نے یہاں " النجم" سے مراد " ثریا" ستارہ لیا ہے، لیکن زیادہ تر مفسرین کی رائے ہے کہ اس سے عام ستارے مراد ہیں۔

اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی صداقت پر ستاروں کی قسم کھانے میں ایک عجیب مناسبت یہ ہے کہ جس طرح ستارے آسمان کی زینت ہیں، اسی طرح وحی الٰہی سے زمین کو زینت ملتی ہے، اس لئے کہ اگر انبیاء کے ذریعہ یہ علم الٰہی زمین والوں کو نہم لتا تو زمین اندھیری رات سے بھی زیادہ تاریک ہوتی۔

اتنی بڑی قسم کھانے کے بعد، اللہ تعالیٰ نے کفار قریش کو خطاب کر کے کہا کہ تمہارے ساتھی یعنی میرے نبی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گم گشتہ راہ نہیں ہوگئے ہیں اور اپنے رب کے صراط مستقیم سے بھٹک نہیں گئے ہیں اور اس میں اشارہ ہے کہ اے اہل قریش ! جادہ مستقیم سے بھٹکے ہوئے تو تم ہو کہ میرے نبی کے تمام حالات سے بخوبی واقف ہو، وہ تمہارے درمیان پیدا ہوئے، پلے بڑھے، ان کی صداقت، امانت، راست بازی، پاکدامنی اور اخلاق عالیہ سے ان کا متصف ہونا تم سب کو معلوم ہے، تمہیں معلوم ہے کہ انہوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور جب چالیس سال کی عمر کے بعد انہوں نے تمہیں بتایا کہ ان پر اللہ کی وحی نازل ہوتی ہے تو تم نے ان کا مذاق اڑایا، ان کو جھٹلا دیا اور قرآن کریم کے وحی الٰہی ہونے کا انکار کردیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت