(1) باری تعالیٰ نے تین آیتوں میں چار چیزوں کی قسم کھا کر " اصحاب اخدود" پر لنت بھیجی ہے جنہوں نے اللہ کے نیک بندوں کو صرف اس لئے آگ میں ڈال دیا تھا کہ وہ رب العالمین پر ایمان لے آئے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس آسمان کی قسم جس میں شمس و قمر اور نجوم و کواکب کے منازل پائے جاتے ہیں، جن میں وہ اپنے خالق کی مقرر کردہ نہایت دقیق تنظیم و ترتیب کے مطابق چلتے رہتے ہیں اور ان سے سر موانحراف نہیں کرتے ہیں۔
اور اس روز قیامت کی قسم ! جس میں اللہ نے اپنے بندوں کے درمیان فیصلے صادر کرنے کا وعدہ کیا ہے اور جو پورا ہو کر رہے گا اور یوم جمعہ اور یوم عرفہ کیقسم صاحب محاسن التنزیل نے (وشاھدو مشھود) کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ ہر اس مخلوق کی قسم ! جس کے اندر حس ہے، جس کے ذریعہ وہ محسوس و مشاہدہ کرتی ہے اور ہر اس مخلوق کی قسم ! جسے بذریعہ حس محسوس و مشاہدہ کیا جاتا ہے، یعنی ان تمام مخلوقات کی قسم جن کا مشاہدہ کیا جاتا ہے، امام شوکانی نے احادیث و آثار کی بنیاد پر پہلی تفسیر (یعنی شاہد سے مراد یوم جمعہ اور مشہود سے یوم عرفہ) کو ترجیح دی ہے۔
تمام مذکورہ بالا چیزوں کی قسم ! کہ اصحاب اخدود اللہ کی لعنت کے مستحق بن گئے جنہوں نے ایک بہت بڑی آگ سلگائی، اور ان مومنوں کو اس کے پاس لے کر آئے جنہوں نے شرک سے تائب ہو کر توحید کی دعوت قبول کرلی، اور ان سے کہا کہ یا تو تم دوبارہ کافر ہوجاؤ یا تمہیں اس آگ میں ڈال دیا جائے گا تو انہوں نے کفر کے بجائے آگ میں ڈالا جانا قبول کرلیا۔
اصحاب اخدود کے بارے میں مسلم، ترمذی اور نسائی وغیرہ نے صہیب (رض) سے اور انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ گزشتہ زمانہ میں ایک بادشاہ تھا، اس کا ایک کاہن تھا اس نے کہا: مجھے ایک ذہین و فطین لڑکا دیجیے جسے میں اپنے مرنے سے پہلے اپنا علم سکھا دوں، بادشاہ نے ایک لڑکا چن کر اس کے پاس بھیج دیا، وہ لڑکا اس کے پاس جانے لگا اس کے راستہ میں ایک گرجا تھا، جس میں ایک راہب (عابد و زاہد) رہتا تھا، لڑکا اس کے پاس بھی جانے لگا، کچھ دنوں کے بعد راہب نے اسے بتایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے، لڑکا اس کے پاس دیر تک رہنے لگا اور کاہن کے پاس جانے میں دیر کرنے لگا، کاہن نے اس کے گھر والوں کو خبر بھیج دی کہ وہ دیر سے آیا کرتا ہے اور میرے پاس بہت کم وقت رکتا ہے، جب لڑکے نے راہب کو یہ بات بتائی تو اس نے کہا: کاہن کو کہہ دیا کرو کہ گھر میں تھا، اور گھر والوں سے کہہ دو، میں کاہن کے پاس تھا ایک دن اس نے دیکھا کہ ایک شیر نے لوگوں کی راہ روک رکھی ہے اس نے ایک پتھر اٹھایا اور یہ کہہ کر اسے مارا کہ اے اللہ ! اگر کاہن کی بات صحیح نہیں ہے تو میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میں اس شیر کو قتل کر دوں اور اگر کاہن کی بات صحیح ہے توشیر اس پتھر سے نہ مرے، چنانچہ شیر مر گیا، لوگوں نے یہ دیکھ کرلڑکے کے علم و عرفان کا اعتراف کرلیا، ایک اندھا اس لڑکے کے پاس آیا، اور کہا کہ اگر تمہارے ذریعہ میری بصارت واپس آجائے گی تو میں تمہیں ایسا ایسا بدلہ دوں گا لڑکے نے کہا: مجھے تم سے اس کا کوئی بدلہ نہیں چاہئے، سوائے اس کے کہ تم اس اللہ پر ایمان لے آؤ جو تمہاری بصارت لوٹا دے گا، اس نے کہا: ٹھیک ہے لڑکے نے دعا کی اور اس کی بینائی واپس آگئی تو وہ اللہ پر ایمان لے آیا، بادشاہ کو خبر ہوئی تو اس نے راہب، سابق نابینا اور لڑکا، تینوں کو اپنے دربار میں بلایا، اور راہب اور سابق نابینا کو آرے سے دوٹکڑے کردیا اور لڑکے کے بارے میں حکم دیا کہ اسے اونچے پہاڑ سے نیچے گرا دیا جائیجب لوگ اسے لے کر پہاڑ پر پہنچے تو اللہ کی قدرت سے ایک ایک کر کے سبھی نیچے گر کر ہلاک ہوگئے اور لڑکا واپس آگیا بادشاہ نے دوبارہ حکم دیا کہ اسے سمندر میں ڈبو دیا جائے لوگ اسے لے کر سمندر میں گئے، اللہ کا ایسا کرنا ہوا کہ سب ڈوب گئے اور لڑکا بچ گیا تب اس نے بادشاہ سے کہا کہ تم مجھے ایک ہی صورت میں مار سکتے ہو کہ مجھ پرتیر چلاتے وقت " بسم اللہ رب ھذا الغلام" کہو یعنی " اس اللہ کے نام سے اسے مارنا چاہتا ہوں جو اس لڑکے کا رب ہے" چنانچہ بادشاہ نے ایسا ہی کیا تو لڑکا مر گیا جب لوگوں نے دیکھا تو بیک آواز سب کہنے لگے کہ ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لے آئے بادشاہ نے جب دیکھا کہ لوگ گروہ درگروہ ایمانلا رہے ہیں تو اس نے ایک آگ جلائی اور تمام لوگوں کو اس کے پاس جمع کیا اور ہر اس شخص کو اس میں ڈالنے لگا جو اپنے نئے دین سے نہیں پھرتا تھا صہیب کہتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (قتل اصحاب الاخدود) سے (العزیز الحمید) تک تلاوت کی اور کہا کہ ان آیتوں میں یہی واقعہ بیان کیا گیا ہے۔
آیت (5) میں اسی آگ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ بڑی بھیانک آگ تھی اور آیات (6/7) میں ب تایا کہ وہ مجرمین اتنے سخت دلتھے کہ اس آگ کے کنارے بیٹھ کر مومنوں اور مومنات کے جسموں کے جلنے کا نظارہ کرتے تھے۔
آیات (8/9) میں فرمایا کہ ان کافروں کے نزدیک ان مومنوں کا جرم اس کے سوا کچھ بھی نہ تھا کہ وہ اس اللہ پر ایمان لے آئے تھے جو زبردست اور تمام تعریفوں کا تنہا سزا وار ہے اور جو آسمانوں اور زمین کا تنہا مالک اور بادشاہ ہے جو اپنے بندوں کے ہر قول و عمل پر مطلع ہے، آسمانوں اور زمین کے درمیان ایک ذرہ بھی اس کے علم سے مخفی اور پوشیدہ نہیں ہے، اور وہ یقیناقیامت کے دن ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔
اللہ جل جلالہ کے ان صفات کا تقاضا یہ ہے کہ بندے اس پر ایمان لائیں اسی کی طاعت و بندگی کریں، اسی سے محبت کریں اور اسی سے ڈریں، نہ کہ کفر کی راہ اختیار کریں اور اس کے ممن بندوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائیں، جیسا کہ اصحاب اخدود نے اپنے زمان کے اہل ایمان کے ساتھ برتاؤ کیا کہ انہیں بے دردی کے ساتھ دہکتی آگ میں ڈال دیا۔
مفسرین لکھتے ہیں کہ یہسورت مکی دور میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام کی ہمت افزائی اور انہیں صبر کی تعلیم دینے کے لئے نازل ہوئی تھی کہ جس طرح گزشتہ زمانہ میں اصحابہ اخدود کے ظلم و ستم پر اس عہد کے مومنوں نے صبر کیا اور آگ میں جلایا جانا برداشت کرلیا لیکن اپنے ایمان سے دست بردار نہیں ہوئے، اسی طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے صحابہ کو بھی اہل مکہ کے ظلم و ستم پر صبر کرنا چاہئے اور اپنے ایمان پر ثابت قدم رہنا چاہئے اور انہیں یہ بھی معلم ہونا چاہئے کہ مکہ کے کفار مسلمانوں پر ظلم و ستم ڈھانے اور بے دردی کی وجہ سے اللہ کے نزدیک اصحاب اخدود کی طرح لعنت کے مستحق ہیں۔