فهرس الكتاب

الصفحة 3946 من 6343

(30) پانچواں واقعہ الیاس (علیہ السلام) کا ہے، جن کا نام بنی اسرائیل کی کتابوں میں " ایلیا" آیا ہے، ان کا زمانہ سلیمان (علیہ السلام) کے بعد کا تھا۔ انہیں شہر بعلبک اور اس کے گردونواح میں رہنے والے بنی اسرائیل کے لئے اس وقت نبی بنا کر بھیجا تھا، جب ان میں بت پرستی پھیل گئی تھی، لوگ اللہ کے بجائے بتوں کی پرستش کرتے تھے اور ہر قسم کا نذر و نیاز اور قربانی انہی کے نام سے کرتے تھے اور تورات کے احکام کو پس پشت ڈال دیا تھا۔

الیاس (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ کیا تم اللہ کے عذاب سے ڈرتے نہیں کہ اس کے بجائے بتوں کی عبادت کرتے ہو؟ کیا تم اس قدر گم گشتہ راہ ہوگئے ہو کہ اپنے بڑے بت (بعل) کی پرستش کرتے ہوء، اور اللہ احسن الخالقین کو فراموش کر بیٹھے ہو جو تمہارے اور تمہارے گزشتہ باپ دادوں کا رب ہے؟!

اہل بعلبک پر ان کی تقریر کا کوئی مثبت اثر نہیں ہوا انہوں نے اللہ کی وحدانیت کا اقرار نہیں کیا اور حالت کفر میں ہی مر گئے، تو انجام کار جہنم میں ڈال دیئے گئے سوائے ان چند بندگان نیک کے جنہوں نے ان کی ایمان کی دعوت کو قبول کرلیا تھا اور ان کی پیروی کی تھی، انہیں اللہ تعالیٰ نے جنت میں داخل کردیا۔

آیت (921) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے ان کا ذکر خیر آنے والی قوموں میں باقی رکھا کہ ہر صاحب ایمان ان کا نام عزت و احترام سے لیتا ہے اور ان کے لئے ان کے پیروکاروں کے لئے سلامتی و رحمت کی دعا کرتا ہے اس کے بعد اللہ نے فرمایا کہ ہم عمل صالح کرنے والوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں اور الیاس ہمارے صادق الایمان بندوں میں سے تھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت