(31) چھٹا واقعہ لوط (علیہ السلام) کا ہے، یہ بھی اللہ کے رسولوں میں سے تھے، انہوں نے بھی اپنی قوم کو دعوت توحید دی اور انہیں ان کے بدترین عمل، عمل لواطت سے روکا، لیکن ان کی دعوت کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوا، تو اللہ تعالیٰ نے تمام بدکاروں کو ہلاک کردیا، ان کی بستیوں کو تہہ و بالا کردیا اور وط (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کو بچا لیا، سوائے ان کی بڑھیا بیوی کے جو کافروں کے ساتھ رہ گئی تھی، تو وہ بھی ان کے ساتھ ہلاک کردی گئی۔
آیت (631) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے لوط اور ان کے مومن ساتھیوں کے سوا باقی تمام کو ہلاک کردیا، یعنی ان کی بستی کو الٹ دیا اور اوپر سے پتھروں کی بارش کردی۔ آیات (731، 831) میں اہل مکہ سے کہا گیا کہ تم لوگ ان بستیوں کے پاس سے کبھی صبح کے وقت اور کبھی شام کے وقت گذرتے ہو اور عذاب الٰہی کے جو آثار اب تک باقی ہیں انہیں دیکھتے ہو، تو کیا تمہیں یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اگر تم بھی اپنے کفر و شرک پر مصر رہو گے تو تمہارا انجام بھی انہی جیسا ہوسکتا ہے؟!