فهرس الكتاب

الصفحة 4125 من 6343

(21) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دی ہے کہ آپ کو اور تمام انسانوں کو موت لاحق ہوگی اس میں کفار مکہ کی تردید ہے جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موت کی تمنا کرتے تھے، ان سے کہا جا رہا ہے کہ اگر محمد مر جائیں گے تو تم لوگ بھی تو مر جاؤ گے، اس لئے کسی کی موت پر خوش ہونا اچھی بات نہیں ہے۔ نیز ان بعض صحابہ کرام کی فکر کی تصحیح کی گئی ہے جو گمان کرتے تھے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر موت طاری نہیں ہوگی اور اس کے بعد والی آیت میں جو بات کہی گئی ہے اس کی تمہید بھی ہے، یعنی دنیا ختم ہوجائے گی، سارے لوگ مر جائیں گے اور قیامت کے دن مومن و کافر اور ظالم و مظلوم سب لوگ اللہ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے حقوق کے لئے ایک دوسرے سے جھگڑیں گے۔

آیت (31) کا ایک مفہوم یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اے میرے نبی ! قیامت کے دن آپ اپنے رب سے لوگوں کے بارے میں بتائیں گے کہ آپ نے اسلام کی دعوت ان تک پہنچا دی تھی اور کفار و مشرکین انکار کریں گے اور عذاب سے بچنے کے لئے کہیں گے کہ ہمیں اسلام کی دعوت پہنچی ہی نہیں تھی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت