فهرس الكتاب

الصفحة 3061 من 6343

30۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد، اب نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے، تاکہ قریش اس سے نصیحت حاصل کریں، ایمان لے آئیں، اور دنیا و آخرت کی رسوائی سے بچیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نوح کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا، اس لیے کہ تمام انبیاء و رسل کی دعوت ایک تھی، سب نے شرک کی نفی کی، اور لوگوں کو توحید باری تعالیٰ کی طرف بلایا، اس لیے جس نے ایک نبی کو جھٹلایا اس نے گویا تمام انبیاء کو جھٹلا دیا، نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا، کیا تمہیں اللہ کا ڈر نہیں لگتا ہے کہ بتوں کی پرستش کرتے ہو، اور اس کے رسول کو جھٹلاتے ہو؟ اللہ نے مجھے تمہارے لیے پیغامبر بنا کر بھیجا ہے، اور جو کچھ مجھے بذریعہ وحی بتایا جاتا ہے، پوری امانت کے ساتھ تم تک پہنچاتا ہوں، اس لیے اللہ کے عقاب سے ڈرو، کفر کی راہ نہ اختیار کرو، میری تکذیب نہ کرو، جن باتوں کا میں تمہیں حکم دیتا ہوں ان پر عمل کرو، اللہ پر ایمان لے آؤ، شرک کرنا چھوڑ دو، اور اللہ کے نازل کردہ دین کے مطابق زندگی گذارو، اور میں جو تمہیں اللہ کے دین کی تبلیغ کرتا ہوں تو اس کی میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا ہوں۔ میں اپنے اجر و ثواب کی امید رب العالمین سے رکھتا ہوں، اس لیے اللہ کے عقاب سے ڈرو، اور میری بات مانو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت