فهرس الكتاب

الصفحة 2427 من 6343

(23) جب جادوگر وقت مقرر پر موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے آئے تو انہوں نے ان سے از راہ خیر خواہی کہا کہ تم لوگ اللہ کے بارے میں افترا پردازی نہ کرو، اور اپنے جادو کے ذریعہ محض خیالی چیز پیش کر کے لوگوں کو دھوکہ نہ دو، اگر تم ایسا کرو گے تو ایک دردناک عذاب کے ذریعہ اللہ تمہیں نیست و نابود کردے گا، اور جان لو کہ افترا پرداز ہمیشہ گھاٹے میں رہتا ہے۔ موسیٰ کی بات سن کر جادوگروں کے درمیان اختلاف ہوگیا اور آپس میں سرگوشیاں کرنے لگے کہ یہ کوئی جادوگر ہے یا واقعی اللہ کا رسول ہے۔ بالاخر ان کی یہی رائے ہوئی کہ یہ دونوں جادوگر ہی ہیں، اپنے جادو کے ذریعہ فرعون اور ہمیں سرزمین مصر سے نکال کر خود سلطنت پر قابض ہوجانا چاہتے ہیں اور ہماری جگہ اپنی قوم کو یہاں بسانا چاہتے ہیں، اور ہمارے اچھے بھلے دین اور اخلاق کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے ہم لوگ ایک بات پر متفق ہوجائیں اور صف بنا کر آگے بڑھیں، تاکہ دیکھنے والوں پر ہمارا رعب پڑے، اور پھر آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ آج جو غالب ہوگا وہ فرعون اور فرعونیوں کی جانب سے خود دادو دہش پائیے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت