(2) ایسے غیب جو انسان کی دوسری صفت یہ ہوتی ہے کہ زندگی میں مال جمع کرنے اور اسے گنتے رہنے کے سوا اس کا کوئی مقصد نہیں ہوتا، وہ حلال و حرام کی تمیز کئے بغیر مال جمع کرتا رہتا ہے اور صلہ رحمی اور دیگر کارہائے خیر میں اسے خرچ کرنے کی کبھی نہیں سوچتا سمجھتا ہے کہ ہر عزت و شرف مال جعم کرنے میں ہے جوں جوں اس کا مال بڑھتا جاتا ہے، اس کا کبر و غرور بڑھتا جاتا ہے اور لوگوں کا مذاق اڑانا اس کا شیوہ بن جاتا ہے ایسا شخص دولت کے نشے میں موت اور اس کے بعد کے انجام کو بھول جاتا ہے اور گمان کرنے لگتا ہے کہ اسے کبھی موت نہیں آئے گی اور وہ ہمیشہ دنیا میں رہے گا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کا گمان غلط ہے، اسے موت آئے گی اور اس عارضی زندگی کے بعد دائمی زندگی آئے گی جس میں اسے اپنے برے اعمال کی سزا بھگتنی ہوگی، اور قیامت کے دن اس آگ میں اسے ڈال دیا جائے گا، جو اس کے اندر ڈالی جانے والی ہر چیز کو نیست و نابود کر دے گی۔