-1" الحمد" سے مراد وہ تمام تعریفیں ہیں جو آسمانوں اور زمین کے درمیان ہو سکتی ہیں، ان سب کا حقدار وہ اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو بغیر سابق مثال و مادہ کے پیدا کیا ہے اور جس نے فرشتوں کو انبیاء کے پاس وحی دے کر بھیجا اور اپنے بعض دوسرے بندوں کے پاس انہیں الہام اور نیک خوابوں کے ذریعہ اپنا پیغام رساں بنا کر بھیجا اور دیگر کارہائے بے شمار کی ذمہ داری ان کو سونپی اور ان فرشتوں میں سے کسی کے دو، کسی کے تین اور کسی کے چار پر ہوتے ہیں اور کسی کے اس سے بھی زیادہ ہوتے ہیں، جیسا کہ صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ معراج کی رات جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبرئیل (علیہ السلام) کو دیکھا تو ان کے چھ سو پر تھے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ اپنی حکمت کے مطابق جس چیز کو جتنی تعداد میں چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، اس لئے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے، تمام رحمتوں، برکتوں، خیرات و ارزاق کے خزانوں کا وہ تنہا مالک ہے، کسی کا ان میں کوئی دخل نہیں ہے، وہ اگر کسی کو ان میں سے سے دینا چاہے تو کوئی روک نہیں سکتا اور اگر کسی کو ان سے محروم کرنا چاہے تو کوئی اسے دے نہیں سکتا۔ وہ صاحب عزت اور ہر چیز پر غالب ہے اور تمام امور میں حکمت و مصلحت کے مطابق تصرف کرتا ہے۔