فهرس الكتاب

الصفحة 1198 من 6343

(25) یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی تھی جو رسو اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے فارس چلا گیا تھا اور وہاں سے رستم واسفند کے واقعات پر مشتمل کتاب لے کر آیا تھا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجلس سے اٹھ جاتے تو یہ ملعون وہیں بیٹھ کر اس کتاب سے واقعات سناتا اور کہتا کہ بتاؤ تو سہی کس کی بات زیادہ دلچسپ ہے یہ شخص غزوہ بدر میں مقد اد بن اسود (رض) کے ہاتھوں پابند سلاسل ہوگیا اور پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے اس کی گردن ماردی گئی۔

آیت میں جمع کا صیغہ اس لیے استعمال کیا گیا ہے کہ تمام کفار قریش زبان قال اور زبان حال سے وہی کہتے تھے جو نضر کہتا تھا کہ اگر ہم چاہیں تو ایسا قرآن لا سکتے ہیں، یہ ان کا غرور باطل تھا اس لیے کہ قرآن نے تو انہیں کتنی بار چیلنج کیا تھا، اور کوئی اس کا جواب نہ دے سکا تھا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت