(2) اوپر کی آیتوں میں مشرکین کی ایک مجرمانہ صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ لوگوں کو دین اسلام میں داخل ہونے سے روکتے ہیں۔ ان کے اس فعل شنیع پر اللہ تعالیٰ نے یہ حکم مرتب کیا کہ مسلمانو ! جب میدان جنگ میں تمہاری مڈبھیڑ ان سے ہو تو ان کی گدنوں پر کاری ضربیں لگاؤ، یعنی ان میں سے جو لوگ تمہاری تلواروں کی زد میں آجائیں انہیں ٹھکانے لگاؤ اور جب دیکھو کہ تمہارا غلبہ یقینی ہوگیا ہے اور دشمن کے باقی افراد شکست خوردہ ہو کر تمہاری قیدی ہوگئے ہیں، تو ان کے ہاتھ اور پاؤں خوب اچھی طرح باندھ دو، تاکہ دھوکہ دے کر کہیں تمہیں قتل نہ کرنے لگیں، یا بھاگ نہ جائیں۔
اور ان قیدیوں کو یا تو ان پر احسان کرتے ہوئے بلامعاوضہ آزاد کر دو، اس لئے کہ اب ان کے غرور کا نشہ ٹوٹ چکا ہے، یا فدیہ اور معاوضہ لے کر انہیں چھوڑ دو، وہ معاوضہ یا تو مال ہو یا دشمن کے پاس موجود کوئی مسلمان قیدی، جسے وہ مسلمانوں کے پاس موجود کسی کافر قیدی کے بدلے آزاد کر دں۔
اور یہ کیفیت اس وقت تک باقی رہے جب تک جنگ ختم نہ ہوجائے اور مشرکین یا تو اسلام قبول کرلیں، یا شکست مان کر جزیہ دینے پر آمادہ ہوجائیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرۃ آیت (193) میں فرمایا ہے: (وقاتلوھم حتی لاتکون فتنہ ویکون الدین للہ) " ان سے لڑو جب تک کہ فتنہ نہ مٹ جائے اور اللہ کا دین غالب نہ ہوجائے۔ "
علمائے سلف کے درمیان اس آیت کے بارے میں اختلاف ہے کہ یہ محکم ہے یا منسوخ، یعنی اس میں بلامعاوضہ یا معاوضہ لے کر دشمن کے قیدیوں کو چھوڑ دینے کا جو حکم بیان کیا گیا ہے وہ باقی ے، یا منسوخ ہوگیا اور بت پرست قیدیوں کو بہرحال قتل کردینا ہے۔
1۔ ابن عباس، قتادہ ضخاک اور سدی کہتے ہیں کہ اس آیت میں بیان کردہ حکم منسوخ ہوچکا ہے اور سورۃ التوبہ کی آیت (5) (فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم) " مشرکین کو جہاں پاؤ قتل کر دو" کے مطابق اب ہر مشرک جنگی قیدی کو قتل کردیا جائے گا امام ابوحنیفہ کا یہی قول ہے، سوائے بچوں، عورتوں اور ان لوگوں کے جن سے جزیہ لینے کی بات طے ہوگئی ہو۔
2۔ اور ابن عمر، عطاء، حسن بصری اور عمر بن عبدالعزیز کی رائے ہے کہ یہ آت، سورۃ التوبہ کی آیت (5) (فاقتلوا المشکرین حیث و جدتموھم) کے لئے ناسخ ہے اور اب مشرک جنگی قیدیوں کو قتل کرنا جائز نہیں ہے، بلکہ بلا معاوضہ یا معاوضہ لے کر اسے آزاد کردینا ہے۔
3۔ اور ابن جریر، شوکانی اور صاحب محاسن التزیل کی رائے ہے کہ یہ آیت محکم ہے، یعنی اس کا حکم باقی ہے اور قیدیوں کا معاملہ حاکم وقت کے سپرد ہوگا، اگر اس کی نظر میں ان میں سے بعض کو قتل کردینا ہی بہتر ہوگا تو وہ انہیں قتل کر دے گا اور اگر چاہے گا تو بلا فدیہ یا فدیہ لے کر انہیں آزاد کر دے گا، یا انہیں غلام بنا لیا جائے گا اور مسلمانوں کے درمیان تقسیم کردیئے جائیں گے، یا جزیہ لگا کر انہیں بطور ذمی اسلامی سلطنت میں رہنے کی اجازت دے دی جائے گی، جنگی قیدیوں کے بارے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تاریخی فیصلے اسی رائے کی تائید کرتے ہیں ائمہ کرام مالک، شافعی، ثوری، اوزاعی اور ابوعبید و غیر کا یہی قول ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اوپر بیان کردہ حکم کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ کافروں کے بارے میں اللہ کا یہی حکم ہے، نیز فرمایا کہ اگر اللہ چاہتا تو مسلمانوں کا کافروں پر بغیر جنگ کئے ہی فتح و نصرت دے دیتا، یعنی انہیں کسی عذاب کے ذریعہ ہلاک کردیتا، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا، بلکہ مومنوں کو ان سے جہاد کرنے کا حکم دیا تاکہ معلوم ہو کہ کون اس کی راہ میں اخلاص کے ساتھ جہاد کرتا ہے اور صبر و ثبات قدمی کا اظہار کر کے اجر جزیل اور ثواب عظیم کا حقدار بنتا ہے اور تاکہ اللہ مومنوں کے ہاتھوں کافروں کو سزا دے۔
نیز فرمایا کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے مارے جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو ضائع نہیں کرتا ہے، انہیں اس راہ پر چلنے کی توفیق دیتا ہے جو جنت کی طرف لے جاتی ہے، ان کے تمام امور و احال کو ٹھیک کردیتا ہے، اور بالاخر انہیں اس جنت میں پہنچا دیتا ہے جس کی نعمتوں کی تفصیلات اور وہاں کے منازل و مقامات کے اوصاف اس نے قرآن کی بہت سی آیتوں میں اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بہت سی احادیث میں اس طرح بیان کردیئے ہیں کہ اہل جنت وہاں پہنچتے ہی از خود اپنی اپنی جگہوں کو پہچان لیں گے۔
امام بخاری نے کتاب الرقاق، باب القصاص یوم القامہ میں ابو سعید خدری (رض) سے روایت کی ہے کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ! اہل جنت اپنی منزل منزلوں تک اپنے دنیاوی گھروں سے بھی زیادہ جلدی اور آسانی کے ساتھ پہنچ جائی گے۔