20۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مزید تسلی کے لیے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو اپنی خواہش نفس کا بندہ ہو کہ آج ایک پتھر کی عبادت کر رہا ہے اور کل اگر اسے کوئی دوسرا خوبصورت پتھر نظر آجاتا ہے تو پہلے کو چھوڑ کو دوسرے کو پوجنے لگتا ہے، کیا آپ ایسے گرے انسان کو راہ راست پر لا سکتے ہیں اگر ایسا نہیں کرسکتے تو اسے اس کے حال پر چھوڑ دیجئے۔
آیت 44 میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کر کے انہیں مشرکینِ مکہ کی انتہائی گری ہوئی حالت بیان کی جا رہی ہے کہ کیا آپ سمجھتے ہیں، ان سے جو کہا جا رہا ہے اسے وہ سن رہے ہیں اور جو مطالبہ کیا جا رہا ہے اسے سمجھ رہے ہیں؟ ہرگز نہیں، یہ تو جانوروں کے مانند ہیں، بلکہ جانوروں سے بد تر ہیں کہ جانور کم از کم آنے جانے کی راہ کو تو سمجھتا ہے، اور چرواہے کی آواز سن کر اس کے مطابق دائیں بائیں تو ہوتا ہے، لیکن یہ لوگ تو نہ اپنے رب کو پہچانتے ہیں، اور نہ اس کے رسول کی پکار کا جواب دیتے ہیں