فهرس الكتاب

الصفحة 2532 من 6343

(13) ذیل میں مذکور آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت اور الوہیت کے چھ آفاقی دلائل پیش کیے ہیں جن میں مشرکین نے غور وفکر نہیں کیا، اس لیے شرک کے دلدل سے نہیں نکل سکے:

1۔ آسمان و زمین کی تخلیق سے پہلے ایک بند اور مسدود مادہ پایا جاتا تھا، آسمان سے نہ بارش ہوتی تھی اور نہ زمین پو کوئی پودا اگتا تھا اللہ تعالیٰ نے اسی مادہ سے آسمان و زمین کو پیدا کیا اور انہیں ہوا کے ذریعہ الگ الگ کیا، آسمان کو اوپر اٹھایا اور زمین کو اس کی جگہ پر رہنے دیا، اور آسمان سے بارش نازل کیا اور زمین میں پودے اگائے۔

2۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی بھیجا، اس کے ذریعہ تمام حیوانات و نباتات کو زندگی دی، اللہ تعالیٰ نے سورۃ الروم آیت (19) میں فرمایا: (ویحیی الارض بعد موتھا) اور وہ زمین کو اس کے مرجانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتا ہے۔ ایک دوسری رائے یہ ہے کہ یہاں ماء سے مراد نطفہ ہے، شوکانی کہتے ہیں کہ اکثر مفسرین کی یہی رائے ہے، یعنی اللہ نے ہر زندہ چیز کو قطرہ منی سے پیدا کیا ہے۔ سورۃ النور آیت (45) میں اللہ نے فرمایا ہے: (واللہ خلق کل دابۃ من ماء) اللہ نے ہر چوپائے کو پانی سے پیدا کیا ہے۔

3۔ زمین پر بڑے اور اونچے پہاڑوں کو کھڑا کردیا تاکہ زمین حکرت نہ کرے۔

4۔ زمین پر کشادہ راستے بنا دیئے تاکہ لوگ ان پر چل کر حصول معاش اور دیگر مقاصد کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ جاسکیں۔

5۔ آسمان کو زمین کے لیے چھت بنایا اور اسے زمین پر گرنے سے محفوظ رکھا۔ سورۃ ق آیت (6) میں اللہ نے فرمایا ہے: (افلم ینظروا الی السماء فوقوھم کیف بنیناھا وزیناھا وما لھا من فروج) کیا انہوں نے آسمان کو اپنے اوپر نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے کس طرح بنایا ہے اور زینت دی ہے اور اس میں کوئی شگاف نہیں۔

6۔ رات اور دن اور شمس و قمر کو پیدا کیا، اور شمس و قمر میں سے ہر ایک کا ایک مخصوص دائرہ بنایا جس میں وہ اللہ کے حکم کے مطابق گردش کرتا رہتا ہے، کوئی ایک دوسرے سے نہیں ٹکراتا اور اپنے محدود دائرے سے باہر نہیں ہوتا۔ سورۃ الانعام آیت (96) میں اللہ نے فرمایا ہے: (فالق الاصباح وجعل اللیل سکنا والشمس والقمر حسبانا ذلک تقدیر العزیز العلیم) وہ صبح کا نکالنے والا ہے اور اسی نے رات کو راحت کی چیز بنائی ہے اور سورج اور چاند کو حساب سے رکھا ہے، یہ بات اس ذات کی ٹھہرائی ہوئی ہے جو زبردست بڑے علم والا ہے، یہی حال تمام دیگر سیاروں کا بھی ہے، ہر ایک اپنے مخصوص دائرے میں گھومتا رہتا ہے، اور سر مو بھی اس سے باہر نہیں ہوتا، ورنہ نظام عالم درہم برہم ہوجاتا، تمام سیارے آپس میں ٹکرا جاتے اور سارا عالم ہلاک و برباد ہوجاتا، یقینا قدرت الہیہ کے یہ تمام مظاہر اس بات کی دلیل ہیں خہ اللہ ایک ہے اور صرف وہی عبادت کا مستحق ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت