(8) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومنوں کو اپنے ان رشتہ داروں اور اہل تعلق کے ساتھ دوستی اور صلہ رحمی کی اجازت دی گئی ہے جنہوں نے مسلمانوں کے خلاف جنگ نہیں کی، اور انہیں ان کے گھروں سے نہیں نکالا۔
اور آیت کا سبب نزول اگرچہ مشرکین مکہ ہیں لیکن یہ حکم تمام کافروں کے لئے عام ہے ابن جریر اور قرطبی وغیرہ نے اسی رائے کو ت رجیح دی ہے اور اس رائے کو مرجوح قرار دیا ہے کہ یہ حکم (فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم) " مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو" کے ذریعہ منسوخ ہوگیا ہے اس لئے کہ امام احمد اور بخاری و مسلم نے اسماء بنت ابی بکر (رض) سے روایت کی ہے کہ ان کی ماں (قتیلہ) صلح حدیبیہ کے بعد تحفے اور ہدیے لے کر ان سے ملنے کے لئے آئی اور ابھی مسلمان نہیں ہوئی تھی، تو انہوں نے اسے اپنے گھر میں داخل ہونے سے روک دیا اور جب عائشہ (رض) نے اس کے بارے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا تو یہ آیت نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرک رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کی اجازت دی، جنہوں نے مسلمانوں کے خلاف جنگ نہیں کی تھی اور انہیں ان کے گھروں سے نہیں نکالا تھا اور ان صنادید قریش مشرکوں سے قطع تعلق کا حکم دیا جنہوں نے مسلمانوں کے خلاف جنگوں میں حصہ لیات ھا اور انہیں ان کے گھروں سے نکالا تھا اور آیت (9) کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے دھمکی دی کہ جو شخص ایسے کافروں سے دوستی کرے گا اور ان سے تعلق قائم کرے گا وہ اپنے حق میں ظلم کرے گا، اور اللہ کے غضب کا مستحق بنے گا۔