(5) اوپر توحیدباری تعالیٰ کا ذکر ہوا ہے، اب یہ بیان کیا جارہا ہے کہ تمام انبیائے کرام کی دعوت کا مقصود یہی توحید باری تعالیٰ تھی۔ چنانچہ موسیٰ (علیہ السلام) جو ایک بڑے نبی اور رسول تھے ان سے جب اللہ تعالیٰ کوہ طور پر ہمکلام ہوئے تو انہیں ان کے رسول ہونے کی خبر دینے کے بعد جو پہلی بات کہی وہ یہی تھی کہ اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں ہے۔
اس آیت کریمہ سے موسیٰ (علیہ السلام) پر نزول وحی کی ابتدا اور اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا واقعہ بیان کیا جارہا ہے۔ شوکانی لکھتے ہیں کہ اس واقعہ کے ذریعہ نبی کریم کو تسلی دی گئی ہے کہ پیغام سانی کی راہ میں آپ کو جو مشقیں اٹھانی پڑ رہی ہیں، یہ کچھ آپ ہی کے ساتھ نہیں ہے، ایسا تو تمام انبیائے کرام کے ساتھ ہوا ہے، موسیٰ (علیہ السلام) مدین میں دس سال گزار کر اپنی بیوی کے ساتھ مصر کی طرف روانہ ہوئے، تو مصلحت الہی کے مطابق کوہ طور کے قریب راستہ کھو بیٹھے، موسم سرما کی سرد اور اندھیری رات تھی، انہیں روشنی اور آگ دونوں کی ضرورت تھی، کوہ طور کی طرف سے انہیں آگ کی روشنی نظر آئی تو اپنی بیوی سے بطور خوشخبری کہا کہ تم یہیں رکی رہو میں تمہارے لیے آگ لے کر آتا ہوں، شاید وہاں کوئی آدمی مل جائے جو ہماری رہنمائی کرے، موسیٰ (علیہ السلام) جب آگ کے قریب پہنچے تو وہاں معاملہ ہی دوسرا تھا۔ وہاں وادی کے داہنے جانب ایک درخت تھا جو بقعہ نور بنا ہوا تھا، وہاں سے آواز آئی، اے موسیٰ ! میں آپ کا رب ہوں اور آپ سے مخاطب ہوں اور آپ اس وقت مقدس وادی طوی میں کھڑے ہیں، اپنے رب کے لیے تعظیم و تواضع اور ادب کا اظہار کرتے ہوئے جوتا اتار دیجیے، یا مفہوم یہ ہے کہ اپنے جوتے اتار دیجیے تاکہ وادی مقدس کی برکات قدموں کے راستے آپ کے جسم میں سرایت کرجائیں۔ اور میں نے آپ کو اس زمانے کے تمام لوگوں کے درمیان سے چن لیا ہے اور اپنی پیغامبری کے لیے اختیار کرلیا ہے، اس لیے اب آپ پر جو وحی نازل ہونے جارہی ہے اسے غور سے سنیے، اور اس کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار ہوجایے، میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے، اس لیے صرف میری عبادت کیجیے اور مجھے یاد کرنے کے لیے نماز قائم کیجیے۔ مفسرین لکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ جو نماز نہیں پڑھتا وہ اللہ کو یاد کرنے والا نہیں کہلاتا، بلکہ اس کا منکر ہوتا ہے۔