فهرس الكتاب

الصفحة 3228 من 6343

16۔ سلیمان (علیہ السلام) کے پاس ایک ایسا محل تھا جس کا فرش چکنے شیشے کا بنا ہوا تھا، اور اس کے نیچے ایک بڑا تالاب تھا جس میں بہت سی مچھلیاں تھیں، اور پانی میں تموج پیدا ہوتا رہتا تھا، انہوں نے بلقیس اور اس کی قوم کو اپنی نبوت اور عظیم سلطنت کی ایک اور نشانی دکھانی چاہی، چنانچہ وہ اس محل میں جا کر بیٹھ گئے، اور ان کے ارد گرد انسانوں اور جنوں کا ایک بڑا لشکر جمع ہوگیا اور پھر اس سے کہا گیا کہ سلیمان (علیہ السلام) اس سے اس محل میں ملنا چاہتے ہیں، جب محل کے صحن میں پہنچی تو اس نے پانی سمجھ کر اپنی دونوں پنڈلیوں سے کپڑے اوپر اٹھا لیے، تو سلیمان (علیہ السلام) نے اس سے کہا یہ پانی نہیں، بلکہ چکنے شیشے کا فرش ہے۔

یہ آخری چیز تھی جس نے بلقیس کی آنکھیں کھول دی۔ پہلی چیز سلیمان (علیہ السلام) کا خط تھا، جسے چڑیا نے اس کی گود میں ڈال دیا تاھ، دوسری چیز اس کا ہدیہ تھا جسے انہوں نے رد کردیا تھا، تیسری چیز اس کے قاصدوں کا فلسطین سے واپس جانے کے بعد سلیمان (علیہ السلام) کی پاکیزہ زنگی کی گواہی تھی۔ اور اب اس آخری چیز نے ان کی نبوت پر ایمان لانے پر اسے مجبور کردیا کہ تمام دنیاوی آرام و آسائش کے اسباب مہیا ہونے کے باوجود سلیمان (علیہ السلام) کا سر رہر وقت شدت تواضع سے اللہ کے سامنے جھکا ہوا ہے۔ اسی لیے بے ساختہ پکار اٹھی کہ میں اب تک اللہ کے بجائے آفتاب کی پرستش کر کے اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی ہوں، میں سلیمان کی پیروی کرتے ہوئے اللہ رب العالمین پر ایمان لاتیہوں، اور اپنے اسلام کا اعلان کرتی ہوں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت