(9) اب ان اہل جنت کا ذکر ہو رہا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے (اصحاب الیمین) کہا ہے، جنہیں عرش کے دائیں جانب جگہ ملے گی اور جن کے نامہ ہائے اعمال ان کے دائیں ہاتھوں میں ملیں گے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان دائیں جانب والوں کا کیا پوچھتے ہو، وہ تو بڑے اونچے لوگ ہوں گے اور ان کی سعادت و نیک بختی اوج ثریا کو پہنچی ہوگی۔
ان کے لئے ایسی بیریں ہوں گی جو کانٹوں اور نقصان دہ شاخوں اور پتوں سے یکسر صاف ہوں گی اور کیلے ہوں گے اوپر سے نیچے تک پھلوں سے بھرے ہوں گے۔ سدی نے لکھا ہے کہ جنت کے کیلے دنیا کے کیلے کے مشابہ ہوں گے، لیکن وہ شہد سے بھی زیادہ میٹھے ہوں گے اور حد نگاہ تک پھیلے ہوئے سائے ہوں گے جو کبھ بھی ختم نہیں ہوں گے۔ ربیع بن انس کا قول ہے کہ وہ عرش کا سایہ ہوگا اور ہر طرف بہتی ہوئی نہریں اور چشمے ہوں گے۔ جن کا پانی کبھی بھی خشک نہیں ہوگا اور نہ اپنی تازگی کھوئے گا اور انواع و اقسام کے بہت سارے پھل ملیں گے جو کبھی بھی ختم نہیں ہوں گے اور جب چاہیں گے ان کے سامنے موجود ہوں گے۔ برخلاف دنیاوی پھلوں کے، جواگر سردی کے زمانے کے ہیں تو گرمی میں نہیں ملتے اور اگر گرمی کے زمانے کے ہیں تو سردی میں نہیں ملتے، اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ موسم آ کر گذر جاتا ہے اور درختوں میں پھل نہیں لگتے۔