فهرس الكتاب

الصفحة 2690 من 6343

(38) کفار مکہ نے رسول اللہ کے بارے میں کہا: (اانزل علیہ الذکر من بیننا) کیا ہمارے درمیان سے محمد پر قرآن اتارا گیا ہے۔ (سورہ ص: 8) اور کہا: (قالوا ابعث اللہ بشرا رسولا) کیا اللہ نے انسان کو رسول بنا کر بھیجا ہے۔ (الاسرا: 94) تو اللہ نے ان کے سوال کا جواب دیا اور کہا کہ وہ اپنی پیغامبری کے لیے جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے وہ فرشتوں میں سے جسے چاہتا ہے اپنی پیغام رسانی کے لیے چن لیتا ہے، اور اسی طرح انسانوں میں سے بھی جسے چاہتا ہے اس کام کے لیے اختیار کرلیتا ہے۔

مفسر ابو السعود لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عبادت میں اپنی وحدانیت ثابت کرنے کے بعد گویا یہ کہنا چاہا ہے کہ اس کے کچھ برگزیدہ بندے ہیں جنہیں اس نے اپنی پیغام رسانی کے لیے اختیار کرلیا ہے، انہی کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اس کی عبادت کرنی لازم ہے۔

آیت (76) میں فرمایا کہ وہ اپنے بندوں کے تمام امور و اعمال سے واقف ہے اس لیے اسے حق پہنچتا ہے کہ وہ جسے چاہے اپنی رسالت و پیغمبری کے لیے اختیار کرے، کسی کو اس پر اعتراض کرنے کا حق نہیں پہنچتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت