فهرس الكتاب

الصفحة 2245 من 6343

(55) انتہائے مغرب تک پہنچ جانے کے بعد ذوالقرنین نے مشرق کی طرف واپسی کا راستہ اختیار کیا اور راہ میں جتنی قومیں آئیں انہیں دین ابراہیمی کی دعوت دی، جن لوگوں نے اس کی دعوت کو قبول کیا انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا اور جنہوں نے انکار کیا انہیں ذلت و رسوائی سے دوچار کیا، ان کے مال و دولت پر قبضہ کرلیا، اور ان قوموں میں سے ایسے لوگوں کو اپنے ساتھ کرلیا جن کے ذریعہ دوسری قوموں پر غلب حاصل کرنے میں مدد لی، یہاں تک کہ آفتاب طلوع ہونے کی جگہ یعنی انتہائے مشرق تک پہنچ گیا، وہاں اس نے ایک ایسی قوم کو پایا جو تمدن سے بالکل ہی دور ننگ دھڑنگ رہتی تھی، نہ ان کے مکافات تھے اور نہ وہاں کوئی درخت تھا جو انہیں آفتاب کی تمازت سے بچاتا۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ وہ لوگ سرخ رنگ کے پستہ قد لوگ تھے جو غاروں میں رہتے تھے اور مچھلیاں کھاتے تھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت