فهرس الكتاب

الصفحة 2915 من 6343

17۔ اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی بھی دعوت توحید دے کر ان کی قوم کے پاس بھیجا، لیکن ہزار کوشش کے باوجود وہ لوگ ایمان نہیں لائے، اور نوح (علیہ السلام) اور ان سے قبل کے تمام انبیاء کی تکذیب کردی، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں طوفان کے ذریعہ ہلاک کردیا، اور آنے والے لوگوں کے لیے ان کی ہلاکت کو درس عبرت بنا دیا، اور آخرت میں تو دردناک عذاب ان ظالموں کا انتظار کر رہا ہے

قومِ عاد، قوم ثمود، اور (رس) کنواں کے قریب رہنے والوں نے بھی اپنے انبیاء کی تکذیب کی، اور دوسری بہت سی قوموں نے بھی اپنے انبیاء کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے سب کو انبیاء کے ذریعہ مثالیں دے کر اور دوسری قوموں کے واقعات سنا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کی، لیکن جب ان کے حق میں کوئی دلیل و حجت مفید ثابت نہیں ہوئی اور اپنے کفر و عناد پر مصر رہے، تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کو ہلاک کردیا۔

اصحاب الرس، کنواں والوں کی تعیین میں علماء کے کئی اقوال ہیں، سدی کہتے ہیں کہ یہ انطاکیہ میں ایک کنواں تھا جس میں کافروں نے اس حبیب النجار کو قتل کر کے ڈال دیا تھا جس کا ذکر سورۃ یس آیت 20 قال یا قوم التبعوا المرسلین، میں آیا ہے، ابن جریر کے نزدیک راجح یہ ہے کہ ان سے مراد اصحاب الاخدود ہیں، جن کا ذکر سورۃ البروج میں آیا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت