فهرس الكتاب

الصفحة 1266 من 6343

(19) اس آیت میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو دھمکی دی ہے اللہ کے مقابلہ میں اپنے اہل وعیال اور رشتہ داروں کو ان کے کفر وشرک کے باوجود ترجیح دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول سے حقیقی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی محبت کو ہر شے کی محبت پر مقدم رکھا جائے باپ ہو یا بیٹا بھائی ہو یا بیوی، یا خاندان کا کوئی فرد یا مال ودولت جس آدمی اپنی کدو کاوش سے حاصل کرتا ہے یا انواع واقسام کے اموال تجارت یا بلند وبالا محلات اور کو ٹھیاں ان سب کی اللہ اور رسول کے مقابلہ میں میں مومن کے دل میں کوئی حثیت نہیں ہوتی جس کے نز دیک یہ چیزیں اللہ اس کے رسول اور جہاد فی سبیل اللہ سے زیادہ محبوب ہوں گی وہ فاسق اور اپنے حق میں ظالم ہوگا۔

علمائے تفسیر لکھتے ہیں کہ یہ آیت سب سے بڑی دلیل ہے کہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرنا ایمان کا جزو اور ان کی محبت کو ہر شے کی محبت پر مقدم کرنا واجب ہے اور جو ایسا نہیں کر گا وہ اللہ کی نگاہ میں بہت بڑا گناہ گار ہوگا، اور اسے عذاب الہی کا انتظا کرا چاہیئے اور اسے پہچاننے کی کسوٹی یہ ہے کہ اگر اس کے سامنے دوچیزیں آئیں ایک وہ جسے اللہ اور اس کے رسول پسند کرتے ہیں اس میں آدمی کا بظاہر کوئی ذاتی فائدہ نہیں ہے اور دوسری وہ ہے جسے اس کا نفس چاہتا ہے لیکن اسے اپنا نے سے کوئ ایسی چیز فوت ہوجاتی جسے اللہ اور اس کے رسول چاہتے ہیں اگر وہ اپنی خواہش نفس کو موافق شے کو اس شے پر ترجیح دے دیتا ہے جسے اللہ اور اس کے رسول چاہتے ہیں تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ وہ اپنے حق میں ظالم ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت