(12) آیت (17) میں جن مومنوں اور کافروں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کرے گا، انہی کو اس آیت کریمہ میں دو فریق سے تعبیر کیا گیا ہے، ایک فریق مسلمان ہے اور دوسرا فریق گزشتہ پانچوں کافر جماعتوں پر مشتمل ہے، دونوں فریق دنیا میں اپنے رب اور اس کے دین و شرعیت کے بارے میں جھگڑتے رہے اور ہر فریق نے دعوی کیا کہ وہ حق پر ہے جب قیامت آئے گی تو اللہ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا کہ کون حق پر ہے، اور کون باطل پر۔ پھر کافر جماعتوں کو جہنم میں داخل کردے گا، جہاں انہیں آگ کے کپڑے پہنائے جائیں گے اور ان کے سروں پر نہایت گرم پانی انڈیلا جائے گا، جس کی گرمی سے ان کے پیٹ کی انتڑیاں اور گوشت اور چربیاں پگھل کرباہر نکل جائیں گی، اور ان کے جسم کے چمڑے بھی کٹ کٹ کر الگ ہوجائیں گے اور جہنم میں ان کے لیے لوہے کے کوڑے ہوں گے جن سے انہیں مارا جائے گا، اور غم و اندوہ اور درد و الم سے بے چین ہو کر جب بھی نکلنا چاہیں گے، تو جہنم پر مامور فرشتے انہیں مار مار کر دوبارہ لوٹا دیں گے اور ایک لمحہ کے لیے انہیں نکلنے نہیں دیں گے اور کہیں گے کہ تم آگ کے عذاب کا مزا چکھتے رہو۔