فهرس الكتاب

الصفحة 5547 من 6343

(1) بخاری و مسلم اور ترمذی نے جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جب پہلی بار وحی نازل ہوئی، اور غار حرا سے گھر واپس آتے ہوئے جبریل (علیہ السلام) کو فضاء میں دیکھا، تو آپ پر کپکپی طاری ہوگئی اور گھر پہنچتے ہی خدیجہ (رض) سے کہا " زملونی ودٹرونی" کہ مجھے فوراً کمبل اڑھاؤ، انتہی اسیلئے اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں از راہ لطف و محبت آپ کو " الزمل" اور سورۃ المدثر " المدثر" کا خطاب دیا۔

بعض مفسرین نے اس کی توجیہہ یہ بیان کی ہے کہ ابتدائے وحی میں جب جبریل (علیہ السلام) آپ کے پاس آتیت و وحی کے رعب سے آپ پر کپکپی طاری ہوجاتی اور آپ کمبل اوڑھ لیتے، اسی لئے آپ کو " الزمل" کا خطاب دیا گیا کچھ دنوں کے بعد یہ کیفیت ختم ہوگئی اور اللہ نے آپ کے دل کو ثبات عطا کیا۔

تیسری رائے یہ ہے کہ " مزمل" کا معنی " نبوت کا بارگاں اٹھانے والا" ہے چونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر آخری رسالت کا بارگراں ڈالا گیا تھا، اسی لیے اس بڑی ذمہ داری کا احساس دلانے کے لئے آپ کو اس خطاب کے ساتھ پکارا گیا۔

اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہلے نماز کا، پھر دعوت کی راہ میں اپنی قوم کی طرف سے آنے والی اذیتوں کو برداشت کرنے کا حکم دیا ہے اور آخر میں یہ حکم دیا کہ آپ اپنی دعوت لوگوں کے سامنے اب علی الاعلان پیش کیجیے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے کمبل اوڑھنے والے (نبی) ! آپ رات کے وقت نماز پڑھا کیجیے مفسرین لکھتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پہلے تہجد کی نماز فرض تھی اور پنجگانہ نمازوں کے فرض ہونے کے بعد آپ کے لئے تہجد کی نماز واجب ہوگئی اور آپ کی امت کے لئے سنت ہوگئی۔

(الا قلیلا) کا مفہوم یہ ہے کہ آپ کچھ وقت کے علاوہ ساری رات نماز پڑھتے رہئے، لیکن (نصفۃ اوانقص منہ قلیلاً) میں تشریح کردی گئی ہے کہ آدھی رات تک نماز پڑھئے یا اس سے تھوڑا سا کم وقت یعنی تہائی رات تک یا آپ اگر چاہئے تو دو تہائی رات تک نماز پڑھئے مقصود یہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اختیار دیا گیا کہ یا تو آدھی رات تک نماز پڑھئے یا اس سے زیادہ یا اس سے کم۔

آیت (4) کے دوسرے حصہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نصیحت کی کہ آپ قرآن کریم کی تلاوت اطمینان کے ساتھ کیجیے بایں طور کہ تمام حروف و کلمات اور حرکات و سکنات واضح ہوں، قرآن کے معانی قلب میں اترتے چلے جائیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت